مستعیر پر تاوان کا حکم:
Question
ایک طالبِ علم نے دوسرے طالبِ علم سے اس کی اجازت سے موبائل بغرض استعمال لیا پھر اسی رات کو واپس کرنے کے لیے وہ طالبِ علم پہنچا لیکن موبائل کا مالک سو رہا تھا، دوسرے دن مدرسہ میں تلاشی ہوئی اور اس موبائل کو توڑ دیا گیا، اب وہ معیر طالبِ علم اپنے موبائل کی قیمت مستعیر سے طلب کرتا ہے، اب شرعی حکم کیا ہے آیا قیمت ادا کرنا واجب ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟
Answer
شی مستعار کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ وہ جب تک مستعیر کے پاس رہے گی بطورِ امانت بے ضمانت ہو گی، یعنی اس کی حفاظت کرنا مستعیر پر اسی طرح ضروری ہے، جس طرح امانت کی حفاظت کی جاتی ہے، لیکن اگر وہ چیز اتفاق سے ٹوٹ گئی یا خراب ہو گئی تو اس پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ یعنی اس پر تاوان کی ذمہ داری اس صورت میں نہ ہو گی، جب وہ چیز اتفاق سے خراب ہو گئی یا ٹوٹ گئی ہو، لیکن اگر اس نے غلط طریقہ سے استعمال کیا، یا غیر ذمہ دار آدمیوں کے ہاتھ میں دے دیا اور وہ چیز ہلاک ہو گئی یا قصداً اس نے خراب کر دیا، یا توڑ دیاتو ان تمام صورتوں میں مستعیر پر اس کا تاوان لازم ہوگا۔
اب اس حکمِ شرعی کے تحت مسئلہ بالا کو دیکھے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مدرسہ نے جب فون کا مطالبہ کیا ہو اور مستعیر نے جھوٹ بول کر یہ کہا ہو کہ میرے پاس نہیں ہے، یا بار بار پوچھنے پر خاموش رہا ہو تو یہ اس کی زیادتی و تعدی ہے اس کی وجہ سے اربابِ مدرسہ نے توڑ دیا ہو، اگر مستعیر صاف بتلا دیتا کہ یہ فون فلان طالبِ علم کا ہے، اس پر اس کے نام کا چٹ لگا دو، تو شاید اربابِ مدرسہ اس کو نہ توڑتے، لہذا اگر مذکورہ بالا صورت حال ہے تو پھر مستعیر پر تاوان لازم ہوگا، اور اگر اربابِ مدرسہ نے کسی مصلحت سے بغیر کسی وجہ کے توڑ دیا تو پھر مستعیر پر تاوان نہیں آئے گا، مگر دوسرا پہلو بعید ہے۔
ملاحظہ ہو شرح عنایہ میں ہے:
(والعارية أمانة إن هلكت من غير تعد لم يضمن الخ) إن هلكت العارية فإن كان بتعد أوجب الضمان بالإجماع وإن كان بغيره لم يضمن. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۹/۷، دار الفكر).
در مختار میں ہے:
(ولا تضمن بالهلاك من غير تعد) وشرط الضمان باطل كشرط عدمه في الرهن خلافاً للجوهرة. وفي الشامية: (قوله بالهلاك) هذا إذا كانت مطلقة فلو مقيدة كأن يعيره يوماً فلو لم يردها بعد مضيه ضمن إذا هلكت كما في شرح المجمع وهو المختار كما في العمادية. قال في الشرنبلالية: سواء استعملها بعد الوقت أولا وذكر صاحب المحيط وشيخ الإسلام: إنما يضمن إذا انتفع بعد مضي الوقت لأنه حينئذٍ يصير غاصباً، أبو السعود. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦۷۹، كتاب العارية، سعيد).
شرح المجلہ میں ہے:
العارية أمانة في يد المستعير فإذا هلكت أو ضاعت أو نقصت قيمتها بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان
وإذا حصل من المستعير تعد أو تقصير بحق العارية ثم هلكت أو نقصت قيمتها فبأي سبب كان الهلاك أو النقص يلزم المستعير الضمان. (شرح المجلة: ۳/۳۱۲، المادة: ۸۱۳، ۸۱٤).
عالمگیری میں ہے:
ولو رد الثوب المستعار فلم يجد المعير ولا من في عياله فأمسكه الليل وهلك لا يضمن ولو وجد من في عياله ولم يرده يضمن. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷۰).
مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ٦/۲۱۷، كوئته. والفتاوى الهندية: ٤/۲٦۳. وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۳۸٦. وفتح باب العناية: ۳/۳٤٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2117
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2117