مکا نِ منبر رسول اللہ ﷺ کی تحقیق:

7 min readFatwa Vol 4 #366Urdu

Question

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے مسجد نبوی میں ہم دیکھتے ہیں کہ منبر شریف محراب نبوی یا مصلیٰ نبوی سے کا فی فاصلہ پر ہے، آنحضور ﷺ کا مصلیٰ یا محراب تو مسجد کے وسط میں ہوگا، تو اسی کے ساتھ ہی منبر ہونا چاہیے منبر ہونا چاہیے، کیوں کہ منبر بھی مسجد کے درمیان میں ہوتا ہے، جب کہ موجود ہ منبر مصلیٰ سے کافی فاصلے پر ہے، یہ بات بھی بعید ہے کہ منبر کو بعد میں ہٹا کر موجودہ جگہ پر رکھا گیا ہو کیونکہ منبر کے ساتھ ریاض الجنہ کے حدود کا تعلق ہے، رسول اللہ ﷺ کے مصلیٰ کے ساتھ کھجور کے تنے کا نشان لگایا گیا ہے، پھر منبر بھی وہی ہونا چاہیے ہونا چاہیے، اس اشکال کا کیا جواب ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شروحاتِ کتبِ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا منبر آپ ﷺ کے مصلیٰ سے متصل و قریب تھا، اس سے بحث نہیں کہ محراب تھی یا نہیں، حافظ ابن حجر رحمه الله لکھتے ہیں:

قال الكرماني: من حيث أنه ﷺ كان يقوم بجنب المنبر

وأوضح من ذلك ما ذكره ابن رشيد أن البخاري أشار بهذا الترجمة إلى حديث سهل بن سعد رضي الله عنه الذي تقوم في باب الصلاة على المنبر والخشب فإن فيه أنه عليه الصلاة والسلام قام على المنبر حين عمل فصلى عليه، فاقتضى ذلك أن ذكر المنبر يؤخذ منه موضع قيام المصلى. (فتح الباري للعسقلاني: ۱/۵۷۵).

علامہ ابن رجب الحنبلی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:

وأما حديث سلمة بن الأكوع رضي الله عنه فتخريج البخاري له في هذا الباب يدل على أنه فهم منه أن المنبر كان بإزاء موقف النبي ﷺ في صلاته أو متقدماً عليه متنحياً عن جدار قبلة المسجد. (فتح الباري: لابن رجب الحنبلي: ۲/٦۲۳).
وقال العلامة العيني رحمه الله: مطابقة للترجمة ظاهرة من حديث أنه ﷺ كان يقوم بجنب المنبر. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ۳/۵۷۵).

سنن ابن ماجہ میں حدیث ہے:

كان رسول الله ﷺ يصلي إلى جذع إذ كان المسجد عريشاً وكان يخطب إلى ذلك الجذع

فلما وضع المنبر وضعوه في موضعه الذي هو فيه فلما أراد رسول الله ﷺ أن يقوم إلى المنبر مر إلى الجذع الذي كان يخطب إليه فلما جاوز الجذع خار حتى تصدع وانشق، فنزل رسول الله ﷺ لما سمع صوت الجذع فمسحه بيده حتى سكن ثم رجع إلى المنبر فكان إذا صلى صلى إليه. (سنن ابن ماجه: ۱۰۲).

رسول اللہ ﷺ کھجور کے تنے کے پاس نماز پڑھتے تھے جس وقت مسجد چھپر تھی اور اس کے پاس خطبہ دیا کرتے تھے پس جب صحابہ
ث
نے منبر رکھا تو کھجور کے تنے کی جگہ رکھا پھر جب رسول اللہ ﷺ نے منبر کا ارادہ فرمایا اور کھجور کے اس تنے کے پاس گزرے جس پر خطبہ دیا کرتے تھے، تو وہ چیخنے لگا یہاں تک کہ پھٹ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے جب تنے کی آواز سنی تو اترے اور اس پر دستِ مبارک پھیرا پھر منبر کے پاس تشریف لائے پس جب نماز پڑھتے تھے تو منبر کے پاس پڑھتے تھے ۔
نیز مسلمانوں کی مساجد میں امام کے مصلیٰ کے پاس بجانبِ راست منبر رکھنے کا رواج ہے، اگر منبر اتنا دور ہوتا جو مسجدِ نبوی میں ہے، تو پھر منبر کو دور رکھنا ہی سنت یا مستحب ہوتا، نیز منبر درمیان میں رکھنا معقول ہے، تاکہ امام منبر پر بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر خطبہ یا بیان کے وقت سب مصلیوں کے درمیان ہو ۔
ہاں حافظ ابن القیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے:

ولم يوضع المنبر في وسط المسجد وإنما وضع في جانبه الغربي قريباً من الحائط وكان بينه وبين الحائط قدر ممر الشاة وكان إذا جلس عليه النبي ﷺ في غير الجمعة أو خطب قائماً في الجمعة استدار أصحابه إليه بوجوههم وكان وجهه ﷺ قبلهم في وقت الخطبة. (زاد المعاد في هدي خير العباد: ۱/٤۳۰).

یہ قول ان اقوال کے خلاف ہے جو پہلے ذکر کیے گئے ۔ علامہ شنقیطی رحمه الله نے الدر الثمین میں تحریر فرمایا ہے:

فلما تحول النبي ﷺ إلى المنبر عن الجذع قام الجذع بحنين إلى النبي ﷺ

فاختار الجذع أن يكون من غراس الجنة وسكت عن الحنين ودفن هذا الجذع فيما بعد تحت المنبر من جهة القبلة. (الدر الثمين للشنقيطي، ص ۳۵).

یہ مضمون وفاء الوفاء میں بھی،
۲
/
۳۹٤
پر مذکور ہے ۔
اور مولانا عبد الحی صاحب رحمه الله نے مجموعۃ الفتاوی میں وفاء الوفاء سے نقل فرمایا:

موضع المنبر لم يغير ويبعد كل البعد أن يجعل النبي ﷺ موضع منبره في طرف مسجد ه ولا يتوسط أصحابه.

منبر کی جگہ نہیں بدلی گئی اور یہ بات بہت بعید ہے کہ حضور سرورِ کائنات علیہ التحیۃ و الصلوات منبر کی جگہ اپنی مسجد کے کنارے میں مقرر فرمائیں اور وسط اصحاب میں اسے نہ رکھوائیں ۔ (مجموعۃ الفتاوی: مترجم،
۲۰۵
) ۔
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

وهو موافق لما روي أنه كان مائة ذراع كما سنبينه ويرجحه عندي أن المنبر الشريف يكون حينئذٍ متوسطاً للمسجد. (وفاء الوفاء: ۱/۳٤۸) وبين المنبر والدرجة التي ننزل عنها إلى الحفرة التي هو مصلي رسول الله ﷺ عن يمين الإمام تسعة أذرع وقيراط وسعة الحفرة ذراع وحرر السمهودي أن المسافة بين المنبر ومكان صلاته أربعة عشر ذرعاً هكذا حرره في (۱/۳۷٤). (والبحر العميق إلى بيت العتيق: ۵/۲۸۰۸).

مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ کہ منبر نبوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مصلیٰ کے ساتھ تھا، لیکن حافظ ابن القیم اور وفاء الوفاء وغیرہ اور مشاہدہ سے پتا چلتا ہے کہ منبر محراب سے دور واقع تھا، اور وہاں تک ریاض الجنۃ ہے ۔ جس کی فضیلت کسی مسلمان پر مخفی نہیں تطبیق یہ سمجھ میں آتی ہے کہ خطبہ کے وقت تو منبر مصلیٰ کے پاس ہوتا تھا اور کبھی کبھی وہاں رکھا جاتا تھا جہاں پر اب موجود ہے، تاکہ مصلیٰ اور محراب کے پاس کی جگہ کھلی رہے، اور جب صحابہ
ث
حلقہ کی شکل میں تشریف فرما ہوں تو رسول اللہ ﷺ کے جمال جہاں آرا اور صحابہ
ث
کے درمیان کوئی حائل نہ ہو جب آپ ﷺ اپنے مصلیٰ پر تشریف فرما ہوں، اور
"ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة"
منبر کی موجود ہ جگہ کی طرف اشارہ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.