منبر رسول کے کتنے زینے تھے؟
Question
آنحضرت ﷺ کے منبر کے کتنے زینے تھے؟ اگر تین ہوں تو اس سے زیادہ بنانا جائز ہو گا یا بدعت یا مباح؟
Answer
شامی میں ہے:
ومنبره ﷺ كان ثلاث درج غير المسماة بالمسترح. (فتاوى الشامي: ۲ /۱٦۱، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے: حضور
ﷺ
کے منبر کے تین درجات تھے، اس سے موافقت اولی اور کمی زیادتی بھی جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی ٤ /۱۲۰) ۔
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ منبر نبوی ﷺ کے تین زینے تھے اور تین سے زائد بنانا بھی جائز ہے مگر بہتر اور افضل یہی ہے کہ منبر نبوی ﷺ سے موافقت رکھی جائے ۔
امداد الاحکام میں ہے:
قال الحافظ في فتح الباري: إن في الأحاديث الصحيحة أنه ﷺ كان يستند إلى الجذع إذا خطب ولم يزل المنبر عن حاله ثلث درجات حتى زاده مروان في خلافة معاوية رضي الله عنه ست درجات من أسفله ثم ذكر سبب ذلك. (ص ۳۳۱ ج ۲).
وروى أبو داود عن تميم الداري أنه قال لرسول الله ﷺ: ألا أتخذ لك منبراً يا رسول الله يجمع عظامك قال: بلى فأتخذ له منبراً مرقاتين. (رقم: ۱۰۸۳). إسناده صحيح.
وقال سيدي مولاي خليل أحمد دام مجده (في شرحه قال الحافظ: وإسناده جيد) فاتخذ له منبراً مرقاتين أي درجتين وبين ما في الصحيح أنه ثلث درجات منافات.
قلت: الذي قال: مرقاتين لم يعتبر الدرجة التي كان يجلس عليها النبي ﷺ. (ص ۱۷۸ ج ۲).
اس سے معلوم ہوا کہ منبر نبوی کے کل درجے تین ہی تھے مع اس درجہ کے جس پر حضور ﷺ جلوس فرماتے تھے اور جن درجوں پر چڑھا جاتا ہے وہ دو تھے، پس حاصل یہ ہوا کہ چڑھنے کی سیڑھیاں دو تھیں اور ان کو درجہ جلوس کے ساتھ ملانے سے کل درجات تین تھے، اور شامی میں جو کہا ہے
"ومنبره ﷺ ثلاث درج غير المسماة بالمستراح". (ص ۸٦۰/۱)
اس میں مستراح سے مراد درجہ جلوس نہیں ہے بلکہ وہ پنکھا ہے جو درجہ جلوس پر پشت کی جانب کمر لگانے کو بنا دیا جاتا ہے، مطلب شامی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ مستراح کو یعنی مستند ظہر کو تین درجات میں شمار نہ کیا جائے بلکہ تین درجات اس کے علاوہ ہوں پس یہ عبارت فتح الباری اور عینی کی عبارت کی منافی نہیں اور اگر مستراح سے درجہ جلوس مراد لیا جائے جیسا کہ قائل دوم کہتا ہے اور اس عبارت شامی رحمہ اللہ کو فتح و عینی کے منافی مانا جائے تو شامی رحمہ اللہ کی عبارت کو ترجیح نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ بلا سند نقل کر رہے ہیں اور فتح و عینی میں سند صحیح کے حوالہ سے تین درجات بتلائے ہیں اور علامہ شامی رحمہ اللہ سے اعلیٰ مرتبہ روایت میں محقق عینی کا ہے اور حافظ کا رتبہ تو
"أظهر من الشمس"
ہے ۔ (امداد الاحکام: ۱۹۵، احکام المساجد) ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/350
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-350