اساتذۂ مدرسہ کا شرائطِ مدرسہ کے خلاف کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 4 #399Urdu

Question

بعض متولی حضرات نے دو اساتذہ کا اپنے مدرسہ میں تقرر کیا اور شرط لگائی کہ صرف دو پہر میں ہمارے مدرسہ میں پڑھائیں گے اور صبح میں کوئی کام نہیں کریں گے، تاکہ دو پہر کے وقت پوری توجہ سے پڑھا سکیں، اور ان اساتذہ نے شرط منظور کر لی اس پر متولی حضرات نے ان کی تنخواہ میں
۳۵
%اضافہ کر دیا اس کے بعد وہ اساتذہ بوقت صبح کسی اور جگہ پڑھاتے ہیں، آیا ان کا یہ فعل درست ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شرائط مدرسہ منظور کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنا ناجائز ہے حتی الامکان شرائط مدرسہ کی پابندی کرنی چاہیے اس لیے دونوں اساتذہ خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے مجرم ٹھہرے اب متولی حضرات کو حق ہے کہ ان کو بوقت صبح پڑھانے سے روک دے یا تنخواہ میں کمی کر دے، ہاں اگر دو پہر کے وقت پڑھانے میں کوئی کوتاہی وغیرہ نہیں ہوتی بڑی دلچسپی اور جاں فشانی کے ساتھ تعلیم میں توجہ دیتے ہیں تو پھر متولی حضرات کو بوقت صبح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود﴾. (سورة المائدة، الآية: ۱).

اے ایمان والوں وعدوں کو پورا کرو ۔
امام ابو بکر جصاص رازی رحمه الله نے اس آیت کے ذیل میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه مجاہد ابن جریج ابو عبیدہ اور متعدد لوگوں سے نقل کیا ہے کہ عقود سے مراد عہود یعنی معاہدات اور وعدے ہیں، ظاہر ہے کہ جائز شرطیں بھی عہد کے قبیل سے ہیں، خود جصاص نے آگے چل کر لکھا ہے کہ ۔
وكذلك كل شرط شرطه إنسان على نفسه في شيء يعمله في المستقبل فهو عقد.

مستقبل میں کیے جانے والے افعال کی بابت اپنے آپ پر انسان جو بھی شرط عائد کر لے وہ عقد ہے پھر آ گے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوے کہ اس آیت کا تقاضہ کیا ہے فرماتے ہیں:

وهو عموم في إيجاب الوفاء بجميع ما يشترط الإنسان على نفسه مالم تقم دلالة تخصصه.
انسان اپنے آپ پر جو شرطیں عائد کر لے یہ آیت ان تمام کی بابت ایفاء اور تکمیل کو واجب قرار دیتی ہے سوائے اس کے کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو اس میں تخصیص کا تقاضہ کرتی ہو ۔
اسی طرح کا مضمون قرآن مجید نے دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا ہے ۔
وأوفوا بالعهد.
اللہ کے عہد کو پورا کرو ۔
مفسر قرطبی رحمه الله اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
لفظ عام لجميع ما يعقد باللسان ويلتزمه الإنسان من بيع أو صلة أو مواثقة في أمر موافق للديانة.
عقد ان تمام باتوں کو عام ہے جو زبان سے طے کی جائیں اور جسے انسان اپنے اوپر لازم کر لے خرید و فروخت ہو یا صلہ رحمی یا کسی بھی ایسے معاملہ میں معاہدہ ہو جو دین کے موافق ہو ۔ (مستفاد از جدید فقہی مسائل: ۳/۳۷) ۔
نیز شرط قبول کرنے کی وجہ سے اساتذہ اجیر خاص ہیں اور اجیر خاص کے لیے دوسری جگہ کام کرنا درست نہیں ۔
در مختار میں ہے:

والثاني وهو الأجير الخاص ويسمي أجير وحد وهو يعمل لواحد عملاً موقتاً بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استوجر شهراً للخدمة أو شهراً لرعي الغنم المسمى بأجر مسمي، بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهراً حيث يكون مشتركاً إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعي لغيره فيكون خاصاً وتحقيقه في الدرر: وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل. (قوله وتحقيقه في الدرر) ونصه اعلم أن الأجير للخدمة أو لرعي الغنم إنما يكون أجيراً خاصاً إذا شرط عليه إلا يخدم غيره أو لا يرعي لغيره أو ذكر المدة أولا. (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. (الدر المختار مع الشامي: ٦/٦۹، ۷۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.