حق متقرر اور غیر متقرر فقہاء کی نظر میں:
Question
فقہاء کے ہاں حقوق کے بارے میں کیا تفصیلات ہیں، نیز حق متقرر اور غیر متقرر میں کیا فرق ہے؟ کون سے حقوق کا عوض لینا جائز ہے اور کون سے حقوق کا عوض لینا ناجائز ہے؟ مثلاً پگڑی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
Answer
اس مسئلہ میں علمائے کرام کی بہت بحثیں اور اختلافات ہیں، لیکن آج کل حقوق کا عوض لینے کا عام لوگوں میں رواج ہو گیا ہے۔
فقہاء نے حقوق کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں: (۱) حقوق متقررہ۔ (۲) حقوق مجردہ۔
(۱) حق متقرر: اس حق کو کہتے ہیں کہ صلح کرنے کے بعد وہ حق متغیر ہو جائے اور اس کا حکم بدل جائے۔
(۲) حق مجرد: اس حق کو کہتے ہیں کہ صلح کرنے کے بعد وہ حق الآن کما کان ہو، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو۔
حق متقرر کی مثال: قصاص ہے کہ صلح کرنے سے پہلے قاتل مباح الدم تھا، اور صلح کرنے کے بعد وہ محفوظ الدم بن گیا، ایسے حقوق کا عوض لینا، یا اس میں صلح کرنا جائز ہے۔
پگڑی کا حق بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ عوض لینے سے قبل مالک کو اس میں حق سکونت حاصل تھا، اور عوض لینے اور صلح کرنے کے بعد اس میں مشتری کو یہ حقوق حاصل ہیں، گویا کہ مشتری کو منفعت مؤبدہ حاصل ہے۔
حق مجرد کی مثال: حق شفعہ اور شوہر کا بیوی کو یوں کہنا: "
اختاريني بألف"
یعنی پہلے بیوی کو طلاق کا اختیار تفویض کرے اور بعد میں کہ دے کہ مجھے ایک ہزار میں پسند کرو، یہ دونوں حقوقِ مجردہ ہیں، اور ان سے کوئی منفعت مالی وابستہ نہیں ہے۔
حقِ شفعہ، حق مجرد اس لیے ہے کہ صلح کرنے سے قبل زمین مشتری کی ملکیت تھی، اور صلح کرنے کے بعد بھی زمین مشتری کی ملکیت رہے گی، نیز مخیرہ صلح کرنے سے قبل بھی شوہر کی بیوی تھی اور صلح کرنے کے بعد بھی اسی کی بیوی ہے اس صورت میں سابقہ حالت نہیں بدلی اس لیے یہ حق مجرد ہے، اور اس کا عوض لینا جائز نہیں ہے۔
ہدایہ کے ابو اب الشفعہ میں مذکور ہے:
وإن صالح من شفعته على عوض بطلت شفعته ورد العوض، لأن حق الشفعة ليس بحق متقرر في المحل، بل هو مجرد حق التملك، فلا يصح الاعتياض عنه،
بخلاف القصاص لأنه حق متقرر. (الهداية: ٤/٤۰٦).
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
والفاصل بين المتقرر وغيره أن ما يتغير بالصلح عما كان قبله فهو متقرر، وغيره غير متقرر، واعتبر ذلك في الشفعة والقصاص، فإن نفس القاتل كانت مباحة في حق من له القصاص، وبالصلح حصل له العصمة في دمه، فكان حقاً متقرراً، وأما في الشفعة فإن المشتري يملك الدار قبل الصلح وبعده على وجه واحد، فلم يكن حقاً متقرراً. (شرح العناية بهامش تكملة فتح القدير: ۹/٤۱٦، ما يبطل به الشفعة، ط: دار الفكر).
اس اصول کے تحت اور بھی کئی نظائر اور مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن میں کسی حق کا عوض لینا یا صلح کرنا جائز ہو، اور وہ حق متقرر ہو، مثلاً نزول عن الوظائف کو فقہاء نے قابل عوض قرار دیا ہے، یعنی کوئی شخص ملازمت یا کوئی عہدہ چھوڑ کر دوسرے کو اس پر مقرر کر دے اور اس کا عوض لے لے، یہ بھی حق متقرر ہے، کیوں کہ صلح سے پہلے ایک شخص اس عہدہ پر فائز تھا، اور صلح کے بعد دوسرا شخص ملازمت پر فائز ہوا۔
در مختار میں ہے:
وعليه فيفتي بجواز النزول عن الوظائف بمال. وفي الشامية: قال العلامة العيني رحمه الله في فتاواه: ليس للنزول شيء يعتمد عليه، ولكن العلماء والحكام مشوا ذلك للضرورة، واشترطوا إمضاء الناظر، لئلا يقع فيه نزاع، ملخصاً من حاشية الأشباه للسيد أبي السعود رحمه الله. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٤/۵۱۹، سعيد).
وللاستزادة انظر: (فتاوى الشامي: ٤/۵۲٤، سعيد. والأشباه والنظائر مع الحموي: ۱/۲۹۱. ومنحة الخالق على البحر الرائق: ۵/۲۳٤، ۲۳۵، كوئته).
٭ نیز زمین کو پانی دینے کا حق جس کو حق الشرب کہتے ہیں، اس کا عوض لینا بھی بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے، کیوں کہ پہلے اس کو پانی لینے کا حق حاصل نہیں تھا، اس لیے کہ یہ شرب خاص ہے، اور اب اس کو اپنی زمین سیراب کرنے کا حق حاصل ہوا۔
ہدایہ میں ہے:
بخلاف الشرب حيث يجوز بيعه تبعاً باتفاق الروايات، ومفرداً في رواية وهو اختيار مشايخ بلخ رحمه الله، لأنه حظ من الماء. (الهداية: ۳/۵٦).
علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں کتاب الشفعہ میں تحریر فرماتے ہیں:
وكان شيخنا الإمام يحكي عن أستاذه أنه كان يفتي بجواز بيع الشرب بدون الأرض، ويقول: فيه عرف ظاهر في ديارنا بنسف، فإنهم يبيعون الماء، فلل عرف الظاهر كان يفتي بجوازه. (المبسوط: ۱٤/۱۳۵، دار الفكر).
اس پر علامہ سرخسی رحمه الله نے لکھا ہے کہ اس عرف کا اعتبار نہیں، اس لیے کہ یہ عرف نص کے خلاف ہے، مگر خود انہوں نے آگے چل کر کتاب المزارعۃ میں یہ مسئلہ دوبارہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا، اور بیع شرب کو عرف کی وجہ سے جائز کہنے والے مشائخ متأخرین کا قول ذکر کیا، اور ان کے قول پر کوئی تنقید نہیں کی۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
وبعض المتأخرين من مشايخنا أفتي أن يبيع الشرب وإن لم يكن له أرض للعادة الظاهرة فيه في بعض البلدان، وهذه عادة معروفة بنسف، قالوا: إنما جوز الاستصناع للتعامل، وإن كان القياس يأباه، فكذلك بيع الشرب بدون الأرض. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۲۳/۱۷۱).
وفي الفتاوى السراجية: بيع الشرب تبعاً للأرض جائز، ومقصوداً كذلك في رواية وبه أخذ مشايخ بلخ رحمه الله. (الفتاوى السراجية: ۳۷۲، كتاب البيوع، ما يجوز بيعه ومالا يجوز).
٭ نیز حق مرور کا عوض لینے کو بھی جائز کہا گیا، کیوں کہ یہ بھی حق متقرر کی طرح ہے کہ پہلے مرور کی اجازت نہیں تھی اور اب مل گئی۔
ہدایہ میں ہے:
أما حق المرور يتعلق بعين تبقي، وهو الأرض فأشبه الأعيان.
اور حق المرور کی بیع کا جواز روایتِ ابن سماعہ سے مروی ہے۔
قال في العناية: وبيع حق المرور، وهو حق التطرق دون رقبة الأرض جائز في رواية ابن سماعة. (العناية في شرح الهداية بهامش فتح القدير: ٦/٤۲۹، دار الفكر. وكذا في الفتاوى الهندية: ۳/۱۳۱. و٦/۲۹٤. وتبيين الحقائق: ٤/۵۲، ملتان).
در مختار میں مذکور ہے:
وصح بيع حق المرور تبعاً للأرض بلا خلاف، ومقصوداً وحده في رواية، وبه أخذ عامة المشايخ. وفي الشامية: قوله وبه أخذ عامة المشايخ، قال السائحاني: وهو الصحيح، وعليه الفتوى، مضمرات، انتهى. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/۸۰، سعيد).
٭ اسی طرح خلع میں بیوی اپنی خلاصی کے لیے مال دیتی ہے، یہ مال بھی کسی عین کے مقابلے میں نہیں، اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے مال کی ادائیگی ہے۔
٭ نکاح میں بھی مہر حق زوجیت کے وصول کے لیے ہے۔
٭ اور شرح مجلہ میں حق علو بلکہ دوسرے حقوقِ مجردہ کا عوض لینے کو بر سبیل صلح جائز قرار دیا ہے۔
قال الأتاسي في شرح المجلة: وعلي ما ذكره من جواز الاعتياض عن الحقوق المجردة بمال، ينبغي أن يجوز الاعتياض عن حق التعلي، وعن حق الشرب، وعن حق المسيل بمال، لأن هذه الحقوق لم تثبت لا صحابها لا جل دفع الضرر عنهم، بل تثبت لهم ابتداء بحق شرعي، فصاحب العلو إذا انهدم علوه، قالوا: إن له حق إعادته كما كان جبراً عن صاحب السفل، فإذا نزل عنه لغيره بمال معلوم ينبغي أن يجوز ذلك على وجه الفراغ والصلح، لا على وجه البيع، كما جاز النزول عن الوظائف ونحوها لا سيما إذا كان صاحب حق العلو فقيراً قد عجز عن إعادة علوه، فلو لم يجز ذلك له على الوجه الذي ذكرناه، يتضرر فليتأمل، وليحرر، والله سبحانه أعلم. (شرح المجلة للأتاسي: ۲/۱۲۱).
حاصل یہ ہے کہ حق متقرر کا عوض لینا ہدایہ اور شرح ہدایہ میں مذکور ہے، اور حق مجرد جیسے حق تعلّی کا عوض لینے کا رواج ہو تو اس کو بھی شرح مجلہ نے جائز قرار دیا ہے۔
فتاوی حقانیہ میں ہے:
حق تصنیف اگر چہ حقوق مجردہ سے متعلق ہے مگر حقوق مجردہ کی بھی دو قسمیں ہیں:
(۱) وہ حقوق جن کے ساتھ مالی منفعت وابستہ ہو، جیسے حق وظیفہ وغیرہ۔ (۲) دوسرے وہ حقوق جن کے ساتھ مالی منفعت متعلق نہیں، جیسے حق شفعہ وغیرہ۔ شریعتِ اسلامی میں مالی منفعت والے حقوق سے دستبرداری کے عوض مال لینا جائز ہے، حق تصنیف کے ساتھ بھی دورِ حاضر میں چونکہ مالی منفعت وابستہ ہے، اس لیے اس کی بیع و شراء جائز ہے، فقہی اصطلاح میں اس کو حق اسبقیت کہا جاتا ہے۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۱۱۱
)۔
اور یہی مضمون نظام الفتاوی (
۲
/
۳۱٦
) میں ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ: مکان و دوکان کے ساتھ بھی مالی منفعت وابستہ ہے، لہذا اس کا عوض لینا بھی جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے۔
شامی میں ہے:
فإنهم قالوا: يجوز أخذ العوض على وجه الإسقاط للحق. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۰، سعيد).
مسئلہ مذکورہ میں بھی مالک نے اپنا حق سکونت ساقط کر کے عوض لیا جو جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
وحاصله: أن ثبوت حق الشفعة للشفيع وحق القسم للزوجة، وكذا حق الخيار في النكاح للمخيرة، إنما هو لدفع الضرر عن الشفيع والمرأة، وما ثبت لذلك لا يصح الصلح عنه، لأن صاحب الحق لما رضي علم أنه لا يتضرر بذلك، فلا يستحق شيئاً، أما حق الموصى له بالخدمة فليس كذلك، بل ثبت له على وجه البر والصلة فيكون ثابتاً له أصالة، فيصح الصلح عنه إذا نزل عنه لغيره، ومثله ما مر عن الأشباه من حق القصاص والنكاح والرق حيث صح الاعتياض عنه، لأنه ثابت لصاحبه أصالة لا على وجه دفع الضرر عن صاحبه
الخ. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۰، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
ومن ادعي على الآخر مالاً فافتدي يمينه أو صالحه منها على عشرة دراهم فهو جائز. (الهداية: ۳/۲۰۹).
جس نے دوسرے پر دعوی کیا پھر مدعی علیہ نے مدعی کے ساتھ صلح کر لی اور کچھ رقم مدعی کو دی تو یہ درست ہے یہاں بھی حق یمین کے بدلے عوض وصول ہوا جو کہ جائز ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (حقوق مجردہ کی خرید و فروخت، از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب۔
والمدخل الفقهي العام، ج ۳، للشيخ مصطفي الزرقا. وشرح المجلة. والموسوعة الفقهية الكويتية. وجديد فقهي مباحث، ج۳. والفقه الإسلامي وأدلته، ج ٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1999
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1999