غسل کے بعد باقی ماندہ منی نکل آنے پر اعادۂ غسل کا حکم:

5 min readFatwa Vol 1 #262Urdu

Question

اگر کسی نے اپنی عورت سے ہم بستری کی یا احتلام ہوا پھر غسل کیا پھر باقی منی نکل آئی تو غسل کا اعادہ اس پر ہے یا نہیں اور اگر یہی معاملہ عورت کو پیش آ جائے تو احناف اور شوافع کے نزدیک کیا حکم ہے؟

Answer

اگر کسی عورت سے ہم بستری کی اور پھر غسل کیا اور بعد میں منی نکلی تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زیادہ چلنے یا پیشاب کے بعد یا نیند کے بعد ایسا ہوا ہو تو اس پر غسل کا اعادہ نہیں ہے لیکن اگر پیشاب یا نیند یا زیادہ چلنے سے پہلے منی آئی تو طرفین کے نزدیک اس پر اعادۂ غسل ضروری ہے جب کہ امام یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر غسل نہیں ہے، ضرورت کے وقت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے لیکن عام حالات میں اعادۂ غسل ضروری ہے، چونکہ یہی احوط ہے اور نجاست وغیرہ کے باب میں احتیاط اولی ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول أو ينام وصلى ثم خرج بقية المني فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأبي يوسف رحمه الله، ولكن لا يعيد تلك الصلاة في قولهم جميعاً، ولو خرج بعد ما بال أو نام أو مشى لا يجب عليه الغسل اتفاقاً كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/ ۱٤).

فتاوی شامی میں ہے:

فلو اغتسلت فخرج منها مني، إن منيها أعادت الغسل لا الصلاة وإلا لا (بشهوة) (وإن لم يخرج) من رأس الذكر (بها) وشرطه أبو يوسف. وبقوله يفتي في ضيف خاف ريبة أو استحيى. وفي القهستاني التاتارخانية معزياً للنوازل: وبقول أبي يوسف، نأخذ لأنه أيسر على المسلمين، قلت: ولا سيما في الشتاء والسفر.
قال المصنف: وإن لم يخرج بها: أي بشهوة. (قوله وشرطه أبو يوسف) أي شرط الدفق (قوله قلت) ظاهره الميل إلى اختيار ما في النوازل، ولكن أكثر الكتب على خلافه ولا سيما قد ذكروا أن قوله قياس وقولهما استحسان وأنه الأحوط، فينبغي الإفتاء بقوله في مواضع الضرورة فقط تأمل. (فتاوى الشامي: ۱/۱٦۰، سعيد).

اور اگر عورت کو یہ مسئلہ پیش آئے اور عورت ہی کی منی ہو تو بھی احناف کے نزدیک مسئلہ یہی ہے اور اگر عورت سے نکلنے والی منی مرد کی ہے تو پھر اس پر غسل کا اعادہ نہیں ہے، بلکہ صرف وضو کافی ہے ۔

(قوله وإلا فلا) أي وإن لم يكن منيها، بل مني الرجل لا تعيد شيئاً وعليها الوضوء.

شوافع کے نزدیک اگر غسل کے بعد منی نکلے تو بغیر کسی تفصیل کے اعادۂ غسل ضروری ہے جیسا کہ ان کی کتب میں مرقوم ہے ۔

شرح المهذب
میں ہے:

(المسألة الثانية) إذا أمنى واغتسل ثم خرج منه على القرب بعد غسله لزمه الغسل ثانياً سواء كان ذلك قبل أن يبول

بعد المني أو بعد بوله هذا مذهبنا نص عليه الشافعي. واتفق عليه الأصحاب. (شرح المهذب: ۲/۱۳۹، دار الفكر).

اور اگر عورت کو ایسا معاملہ پیش آئے تو شوافع کے نزدیک مرد کی طرح عورت پر بھی اعادۂ غسل ضروری ہے لیکن اگر عورت سے غسل کے بعد مرد کی منی نکلے تو اس صورت میں اگر دو شرطیں پائی جائیں تو شوافع کے نزدیک اعادۂ غسل ضروری ہو گا ورنہ نہیں، پہلی شرط تو یہ کہ عورت شہوات والی ہو ضعیف نہ ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ جماع سے اس کی شہوت پوری ہو چکی ہو نائمہ نہ ہو کہ حالت نوم میں وطی کرنے سے عورت کی شہوت اور حاجت پوری نہیں ہوتی، اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی شرط مفقود ہو گی تو اس پر اعادہ غسل ضروری نہ ہو گا ۔ ملاحظہ ہو:

إعانة الطالبين
میں ہے:

وطئت المرأة في دبرها فاغتسلت ثم خرج منها مني الرجل فلا يجب عليه إعادة الغسل، أو وطئت في قبلها ولم يكن لها شهوة كصغيرة أو كان لها ولم تقضها نائمة فكذلك لا إعادة عليها. (إعانة الطالبين: ۱/ ۷۰، وكذا في روضة الطالبين: ۱/ ۸٤).

یعنی اگر عورت سے وطی کی گئی اس کی دبر میں پھر اس سے مرد کی منی نکلی تو عورت پر غسل کا اعادہ نہیں ہے، اور اگر عورت سے وطی کی گئی قبل میں پھر غسل کے بعد عورت سے مرد کی منی نکلی تو اگر وہ شہوت والی نہیں ہے مثلاً صغیرہ ہے تو اس پر اعادہ غسل نہیں ہے اور اگر شہوت والی تو ہو لیکن جماع سے اس کی حاجت و شہوت پوری نہ ہوئی ہو جیسے نائمہ سے کوئی جماع کر لے تب بھی عورت پر اعادۂ غسل ضروری نہیں ہو گا ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.