مریض کے انتقال کے بعد علاج کی باقی ماندہ رقوم کا حکم:

9 min readFatwa Vol 8 #336Urdu

Question

ایک آدمی کسی مہلک مرض میں مبتلا تھا علاج کے لیے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی، اس کے لیے چندہ کیا گیا، دوست و احباب اور اقرباء وغیرہ نے کافی امداد کی، یہ تمام پیسہ مریض کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا رہا اور مریض کے علاج کے لیے بوقتِ ضرورت صرف ہوتا رہا کہ مریض کا انتقال ہو گیا، اب یہ باقی ماندہ رقوم کے ساتھ کیا کیا جائے؟ متبرعین کو واپس پہنچانی ضروری ہے یا مرحوم کے ترکہ میں شامل ہو گی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ متبرعین نے بنیتِ تصدق مریض کے اکاؤنٹ میں رقوم جمع کر دی تھی، لہذا مریض ان تمام رقوم کا مالک بن گیا تھا، اب انتقال کے بعد مرحوم کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام شرعی ورثہ میں حسبِ سہامِ شرعی تقسیم ہو گی، متبر عین کو واپس کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے ان کو اپنے صدقہ وہبہ کا ثواب مل چکا۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: لما نزلت: ﴿لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون﴾ [آل عمران: ۹۲] جاء أبو طلحة إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله! يقول الله تبارك وتعالى في كتابه: ﴿لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون﴾ [آل عمران: ۹۲] وإن أحب أموالي إلى بيرحاء، قال: وكانت حديقة كان رسول الله ﷺ يدخلها، ويستظل بها ويشرب من مائها فهي إلى الله عزوجل وإلي رسوله ﷺ، أرجو بره وذخره، فضعها أي رسول الله حيث أراك الله، فقال رسول الله ﷺ: بخ يا أبا طلحة ذلك مال رابح، قبلناه منك، ورددناه عليك، فاجعله في الأقربين، فتصدق به أبو طلحة على ذوي رحمه قال: وكان منهم أبي، وحسان، قال: وباع حسان حصته من معاوية، فقيل له: تبيع صدقة أبي طلحة، فقال: ألا أبيع صاعاً من تمر بصاع من دراهم، قال: وكانت تلك الحديقة في موضع قصر بني حديلة الذي بناه معاوية. (صحيح البخاري، رقم: ۲۷۵۸).

حدیث بالا سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شئی موہوب واہب کی ملکیت سے خارج ہو جاتی ہے اور موہوب لہ شئی موہوب میں مالکانہ تصرف کرنے کا حقدار ہو جاتا ہے۔
شرح مجلہ میں مذکور ہے:

لكن في رد المحتار (۵/٦۸۹، سعيد) أيضاً، أول كتاب الهبة، ما نصه: أعطي لزوجته دنانير لتتخذ بها ثياباً وتلبسها عنده فدفعتها معاملة فهي لها (قنية)، اتخذ لولده الصغير ثوباً يملكه وكذا الكبير بالتسليم (بزازية)، قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك، كمن دفع لفقير شيئاً وقبضه ولم يتلفظ واحد منهما بشيء

ويظهر لي من مجموع هذا النقول أن الهبة كما تنعقد بالألفاظ الدالة على التمليك مجاناً لغة أو عرفاً، تنعقد أيضاً بالفعل بطريق التعاطي

لكن مع قرينة لفظية أو حالية. (شرح المجلة لمحمد الأتاسي: ۳/۳٤۹، المادة: ۸۳۸، ط: مكتبه رشيديه).

مذکورہ بالا عباراتِ فقہیہ سے واضح ہوا کہ ہبہ منعقد ہونے کے لیے الفاظ ضروری نہیں بلکہ تعاطی سے بھی منعقد ہو جاتا ہے لہذا جیسے ہی ہبہ اور صدقہ کی نیت سے مریض کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہوے مریض ان پیسوں کا مالک بن گیا۔ پھر ہبہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔ ملاحظہ ہو:

قال في الجامع الصغير: رجل وهب لرجل داراً، أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه بشيء منها، أو يعوضه شيئاً منها، أو وهب له جارية على أن يردها عليه، أو على أن يعتقها، أو على أن يتخذها أم ولد، فالهبة جائز ة، والشرط باطل. وفي النافع الكبير: قوله والشرط باطل، لأنه يخالف موجب العقد، والهبة لا تفسد بالشروط الفاسدة. (الجامع الصغير مع شرحه النافع الكبير، ص ٤۳۵، ط: عالم الكتب). وينظر أيضاً: (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ٦۸۸، سعيد، وشرح العيني على الكنز: ۲/۲٦٦، إدارة القرآن، والفتاوى الهندية: ٤/۳۹٦، دار الفكر).

یہاں موقع کی مناسبت سے ہمارے بعض اکابر رحمه الله کا ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔
فتاوی خلیلیہ میں مرقوم ہے: ایک سفر میں حضرت سہارنپوری اور حضرت (نام ظاہر نہیں کیا ) دونوں ساتھ ساتھ تھے، اثناء سفر میں کسی معتقد نے حضرت کو ایک بڑی قیمتی جیبی گھڑی ہدیۃً پیش کی، حضرت کے پاس گھڑی پہلے سے موجود تھی، لیکن آپ نے اپنے الطافِ کریمانہ کی بنا پر قبول کر لی۔
کچھ دیر کے بعد حضرت سہارنپوری نے فرمایا کہ یہ گھڑی آپ کی ضرورت سے زائد ہو تو میں اس کو خریدنا چاہتا ہوں آپ فروخت کر دیں، اُن حضرت نے جواب دیا کہ فروخت کرنے کی کیا ضرورت ہے، میں بھی آپ کا اور گھڑی بھی آپ کی، یہ لیجیے ہدیۃً قبول فرما لیں، حضرت نے فرمایا کہ اگر آپ پہلے پیش کر دیتے تومیں قبول کر لیتا، اب تو خریدنے کی نیت کر چکا ہو ں اس لیے ہدیہ کے کوئی معنی نہیں ، کچھ رد و قدح کے بعد بیع کا معاملہ ہو گیا قیمت دے دی گئی اور گھڑی لے لی گئی۔
مگر خدا جانے کس طرح ان معطی صاحب کو خبر ہو گئی کہ میری گھڑی فروخت کر دی گئی جس پر ان کو گرانی ہوئی کیوں کہ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ گھڑی ان حضرت کے استعمال میں ہی آتی۔
اِس گرانی کی اطلاع جب اُن حضرت کو ہوئی تو اُنہوں نے حضرت سہارنپوری نور اللہ مرقدہٗ سے کہا کہ وہ گھڑی واپس کر دیں، میں قیمت واپس کرتا ہوں، حضرت نے فرمایا: کیوں؟ کیا خیارِ شرط تھا؟ اُن حضرت نے فرمایا: نہیں ، خیارِ شرط تو نہیں تھا، ان معطی کو گرانی ہو رہی ہے، ان کی گرانی ختم ہو جائے گی، حضرت سہارنپوری نے فرمایا: کیا یہ شرط تھی کہ ان کو گرانی ہوئی تو واپس کر دی جائے گی؟
ان حضرت نے فرمایا: یہ شرط بھی نہیں تھی، بیع بالکل صاف تھی اور بات ہو چکی تھی، اب اقالہ کر لیں، حضرت سہارنپوری نے فرمایا: اقالہ کے لیے تراضی طرفین شرط ہے، میں تو رضا مند نہیں ، ان حضرت نے فرمایا کہ آپ بڑے ہیں، میں چھوٹا ہوں، چھوٹوں کی خاطر بڑے رضا مند ہو جایا کرتے ہیں، حضرت سہارنپوری نے فرمایا کہ آپ کی خاطر میں ضرور رضا مند ہو جاتا، مگر یہ گھڑی میں نے اپنے لیے نہیں خریدی بلکہ ایک دوست نے مجھے گھڑی خریدنے کے لیے اپنا وکیل بنایا تھا، میں نے یہ گھڑی ان کی نیت سے خریدی ہے اس لیے اب یہ گھڑی ان کی ہو گئی، اب مجھے اس تصرف کا کوئی حق نہیں ، اس لیے کہ وکیل کا تصرف اعطاء موکل کی حد تک رہتا ہے، مجھے صرف وکیل بالشراء بنایا گیا ہے، وکیل بالبیع نہیں بنایا گیا۔
اس پر حضرت نے اپنی گفتگو ختم فرما دی اور خاموش ہو گئے۔
اس کے بعد دوسری مجلس میں ان معطی کے سامنے حضرت سہارنپوری نے وہ گھڑی ان حضرت کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کر دی کہ لیجیے یہ گھڑی رکھ لیجیے اور میری قیمت واپس کر دیجیے۔
حضرت نے فرمایا کہ آپ تو یہ کہتے تھے کہ میں صرف وکیل بالشراء ہوں وکیل بالبیع نہیں ہوں پھر کیسے فروخت کر رہے ہیں؟
حضرت سہارنپوری نے فرمایا: بات بالکل اسی طرح ہے جس طرح میں نے کہی تھی مگر مجھے ان صاحب پر پورا اعتماد ہے، میں جب ان سے یہ کہوں گا کہ میں نے آپ کی توکیل کے تحت آپ کے لیے گھڑی خریدی تھی، لیکن پھر اپنی ایک مصلحت سے میں نے وہ واپس کر دی تو ان کو گرانی نہیں ہو گی۔ اس پر ان حضرت نور اللہ مرقدہ نے گھڑی واپس لے کر قیمت ادا کر دی۔ (فتاوی خلیلیہ، ص 62-64، مکتبۃ الشیخ، کراچی)۔
مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ موہوب واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں آ جاتی ہے اور موہوب لہ اس میں مکمل تصرف کا حقدار بن جاتا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.