مصافحہ کا مسنون طریقہ:
Question
مصافحہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے، ہندوستان و پاکستان کے علماء تو دونوں ہاتھوں سے کرتے ہیں لیکن عرب حضرات ایک ہاتھ سے کرتے ہیں اور اس کو مسنون کہتے ہیں، مسنون طریقہ کی وضاحت کیجیے؟
Answer
احادیث کی روشنی میں مصافحہ دونوں ہاتھوں سے مسنون ہے ۔ ملاحظہ کیجیے امام بخاری رحمه الله نے "
باب الأخذ باليدين"
کے تحت حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه
کا اثر نقل فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قال: حدثنا سيف بن سليمان قال: سمعت مجاهداً يقول: حدثني عبد الله بن سخبرة أبو معمر قال: سمعت ابن مسعود رضي الله عنه يقول: علمني النبي ﷺ وكفي بين كفيه التشهد كما يعلمني السورة
(رواه البخاري: ۲/۹۲٦).
امام بخاری رحمه الله کے ترجمۃ الباب اور حدیث سے پتا چلا کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے مسنون ہے ۔
جو لوگ ایک ہاتھ سے مصافحہ مسنون بتاتے ہیں وہ بھی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ صحابی نے ایک ہاتھ سے مصافحہ کیا، لیکن یہ استدلال درست نہیں اس لیے کہ نبی کریم ﷺ کا عمل اس حدیث میں دو ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کا مذکور ہے اور صحابی کا مقصود یہ بتانا نہیں ہے کہ میں نے ایک ہاتھ سے مصافحہ کیا یہ تو صحابی کی شان سے بعید ہے کہ حضور دو ہاتھ سے مصافحہ کریں اور صحابی ایک ہاتھ سے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ میرا ہاتھ حضور کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا ۔
امام بخاری رحمه الله نے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے پر حماد بن زید کا عمل بھی پیش کیا ہے ۔ ملاحظہ کیجیے:
وصافح حماد بن زيد ابن المبارك بيديه. (بخاري شريف: ۲/۹۲٦).
قال في فتح الباري: وصله غنجار في تاريخ بخاري من طريق إسحاق بن أحمد بن خلف قال: سمعت محمد بن إسماعيل البخاري يقول: سمع أبي من مالك ورأي حماد بن زيد يصافح ابن المبارك بكلتا يديه وذكر البخاري في التاريخ في ترجمة أبيه نحوه وقال في ترجمة عبد الله بن سلمة المرادي حدثني أصحابنا يحيى وغيره عن أبي إسماعيل بن إبراهيم قال: رأيت حماد بن زيد وجاء ه ابن المبارك بمكة فصافحه بكلتا يديه ويحيى المذكور هو ابن جعفر البيكندي. (فتح الباري: ۱۱/۵٦).
الادب المفرد میں امام بخاری رحمه الله نے روایت بیان فرمائی ہے:
عن عبد الرحمن بن رزين قال: مررنا بالربذة فقيل لنا: هاههنا سلمة بن الأكوع رضي الله عنه فأتيته فسلمنا عليه فأخرج يديه فقال: بايعت بهاتين نبي الله ﷺ فأخرج كفاً له ضخمة كأنها كف بعير فقمنا إليها فقبلناها. (الأدب المفرد، رقم: ۹۷۳، وإسناده حسن).
یاد رہے کہ بیعت میں مصافحہ بھی ہوتا ہے ۔
طبرانی شریف کی روایت میں ہے:
عن أبي أمامة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: إذا تصافح المسلمان لم تفرق أكفهما حتى يغفر لهما. (المعجم الكبير للطبراني: ۸/۳۳۷/۸۰۰۲). قال الهيثمي في المجمع (۸/۳۷، باب المصافحة والسلام، ط: القاهرة): وفيه؛ مهلب بن العلاء، ولم أعرفه، وبقية رجاله ثقات.
مسند الامام احمد میں حضرت انس رضی الله عنه سے مروی ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: ما من مسلمين التقيا، فأخذ أحدهما بيد صاحبه، إلا كان حقاً على الله أن يحضر دعاء هما، ولا يفرق بين أيديهما حتى يغفر لهما. قال الشيخ شعيب الأرناؤوط: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل ميمون المرئي، وهو ابن موسي، وميمون بن سياه، فهما صدوقان، محمد بن بكر: هو البرساني. (مسند الامام أحمد: ۱۹/٤۳٦/۱۲٤۵۱).
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
جمہور فقہاء کے نزدیک دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا چاہیے، مجالس الابرار میں ہے: "
والسنة أن تكون بكلتا يديه" اور
سنت یہ ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہو ایسا ہی در مختار اور جامع الرموز وغیرہ میں ہے اور معجمِ طبرانی میں بروایت ابو امامہ رضي الله عنه جو یہ حدیث مذکور ہے:
قال: قال رسول الله ﷺ إذا تصافح
الخ
۔
یعنی حضور سرورِ دو عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے ہاتھ جدا نہیں ہوتے مگر اس وقت کہ ان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں، اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا چاہیے، کیوں کہ اگر ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہوتا تو
"أكفهما"
کی جگہ پر جو کف کی جمع ہے
"كفاهما"
تثنیہ کا لفظ لایا جاتا ۔ (مجموعۃ الفتاویٰ، جلدِ اول، ص۱۳۳، ط: آرام باغ کراچی) ۔
لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ نحو میں قاعدہ ہے کہ اگر مضاف مضاف الیہ کا جزء ہو تو مضاف کو بجائے تثنیہ جمع لایا جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔ (روح المعانی: ۲۸/۱۵۲) ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه کی روایت کے بارے میں علامہ لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے وہ مصافحہ جو ملاقات کے وقت کیا جاتا ہے مراد نہیں ہے بلکہ یہ ہاتھ میں ہاتھ لینا ویسا ہے جیسا کہ بزرگ چھوٹوں کو کوئی چیز تعلیم کرنے کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لیتے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ اس سے وہی مصافحہ مسنونہ مراد ہے تو بھی اس حدیث سے یہ بات صاف طور سے ظاہر ہے کہ حضور سرور دو عالم ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا اور حضرت ابن مسعود رضي الله عنه کے ایک ہاتھ کا ذکر اس بات کا قطعی ثبوت نہیں ہے کہ دوسرا ہاتھ شامل نہ تھا کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کف بمعنی جنس مستعمل ہوا ہے اور کف سے دونوں ہاتھ مراد لیے گئے ہیں، استعمال عرب اور آیاتِ قرآن اور احادیثِ نبوی میں یہ بات بکثرت پائی گئی ہے کہ ید کا استعمال جنس ید پر آتا ہے جو ایک ہاتھ اور دو ہاتھ دونوں کو شامل ہے اور اکثر مقامات پر دو ید کی جگہ ایک ید کا استعمال ہوا ہے اسی بنا پر جن حدیثوں میں اخذ بالید وارد ہوا ہے ان سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کرنا قطعی ثابت ہے بلکہ وہ حدیثیں دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے پر محتمل ہیں پس جب کوئی ایسی حدیث پائی جائے جس سے صراحۃً ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کرنا ثابت ہو تب فقہاء کے اقوال کو ترک کرنا ضروری ہے اور جب تک اس کی تصریح صریح نہ پائی جائے اس وقت تک فقہاء کے اقوال پر عمل چاہیے ۔ واللہ اعلم ۔ (مجموعۃ الفتاوی، جلدِ اول، ص
۱۳۳
، آرام باغ کراچی) ۔
فیض الباری میں حضرت شاہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
واعلم أن كمال السنة فيها أن تكون باليدين، ويتأدى أصل السنة من يد واحدة أيضاً وقد بوب البخاري بعيدة: باب الأخذ باليدين، ثم الذين يدعون العمل بالحديث، ينكرون التصافح باليدين، ولما لم يكن في ذلك عند المصنف حديث على شرطه، أخرج حديث ابن مسعود رضي الله عنه في التشهد، فاكتفي عن الاستشهاد على الجنس، فإن التصافح في حديثه كان عند التعليم دون التسليم، وهذا غير ذلك، نعم أخرج لها أثرين، ثم للتصافح باليدين حديث مرفوع أيضاً، كما في الأدب المفرد، وأراد المدرسون أن يستدلوا عليه من حديث ابن مسعود رضي الله عنه هذا، فقالوا: أما كون التصافح باليدين من جهة النبي ﷺ فالحديث نص فيه، وأما كونه كذلك من جهة ابن مسعود رضي الله عنه، فالراوي وإن اكتفي بذكر يده الواحدة، إلا أن المرجو منه أنه لم يكن ليصافحه بيده الواحدة، والنبي ﷺ قد صافحه بيديه الكريمتين، فإنه يستبعد من مثله أن لا يبسط يديه للنبي ﷺ وقد يكون النبي ﷺ بسط له يديه، غير أن الراوي لم يذكره، لعدم كونه غرضه متعلقاً بذلك. (فيض الباري: ٦/۲۰٤، باب المصافحة).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں: "
والسنة في المصافحة بكلتا يديه". (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۱، سعيد).
قال في الفتاوى الهندية: وتجوز المصافحة والسنة فيها أن يضع يديه على يديه من غير حائل من ثوب أو غيره كذا في خزانة المفتين، والله أعلم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۹).
قال في مجمع الأنهر: ولا بأس بالمصافحة لأنها سنة قديمة متوارثة في السنة والسنة في المصافحة بكلتا يديه. (مجمع الأنهر: ٤/۲۰٤).
حضرت شیخ الحدیث رحمه الله فرماتے ہیں:
ولا يذهب عليك أن السنة في المصافحة أن تكون باليدين كما هو المعروف عن الصحابة والتابعين والمتوارث عن المشايخ. (اوجز المسالك: ۲/۱۹۲).
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله ابن مسعود رضي الله عنه کی روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
امام بخاری رحمه الله نے یہ حدیث
"باب المصافحة"
کے تحت ذکر فرمائی، اور اس کے متصل "
باب الأخذ باليدين"
کا عنوان قائم کر کے اس حدیث کو مکرر ذکر فرمایا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنتِ نبوی ہے، علاوہ ازیں مصافحہ کی روح، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے:
اپنے مسلمان بھائی سے بشاشت سے پیش آنا، باہمی الفت و محبت کا اظہار ہے ۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ۲/۱۹۸، آداب الصحبة)
اور فطرتِ سلیمہ سے رجوع کیا جائے تو صاف محسوس ہو گا کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تواضع، انکسار، الفت و محبت اور بشاشت کی جو کیفیت پائی جاتی ہے، وہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں نہیں پائی جاتی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۱۵۲، طبع جدید) ۔
حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
مصافحہ دونوں ہاتھوں سے سنت ہے بلا مجبوری صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا خلاف سنت اور تکبر کی علامت ہے ۔ (آداب المعاشرت) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ۸/۳۹۷ ۔ ٤۰۳، و قاموس الفقہ: ۵/۱۰۵) ۔
مذکورہ بالا تمام دلائل کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے مسنون ہے اور ایک ہاتھ سے خلاف سنت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2770
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2770