صفر نام رکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #233Urdu

Question

صفر اسلامی مہینے کا دوسرا مہینہ ہے اس کے درجِ ذیل معانی ہیں:
الصفر: الجوع، دود في البطن وداء يصفر منه الوجه. (المعجم الوسيط، ص ۵۱٦).
وقال الإفريقي: الصفر داء في البطن يصفر منه الوجه

(لسان العرب: ٤/٤٦۰).

ان معانی کو دیکھتے ہوئے کسی کے لیے درست ہے کہ اپنے بیٹے کا نام صفر رکھے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اس مہینہ کی وجہ تسمیہ یہ لکھی ہے کہ عرب محرم میں قتال نہیں کرتے تھے، اور صفر کے مہینہ میں گھر خالی چھوڑ کر قتال کے لیے نکل جاتے تھے تو ہم یہ کہیں گے کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ صفر یعنی گھر چھوڑ کر اللہ تعالی کے راستہ میں جہاد اور دین کی محنت کے لیے نکلنے والا، یہ اچھے معنی ہے اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بچہ کا نام صفر رکھنا جائز اور درست ہے ۔
نیز لوگ مہینوں کے نام رکھنے کے عادی ہے مثلاً رمضان، شعبان، ربیع وغیرہ تو صفر رکھنا بھی جائز ہے ۔
تاج العروس میں ہے:

الصفر: العقل

وصفر: الشهر الذي بعد المحرم قال بعضهم إنما سمي صفراً

لا صفار مكة من أهلها إذا سافروا. وروي عن رؤبة أنه قال: سموا الشهر صفراً؛ لأنهم كانوا يغزون فيه القبائل، فيتركون من لقوا صفراً من المتاع

وفي الحديث: إن أصفر البيوت من الخير البيت الصفر من كتاب الله، وفي حديث أم زرع: صفر ردائها، وملء كسائها وغيظ جارتها. (تاج العروس: ۱۲/۳۳۰، ۳۳۳).

تفاولاً ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی اس بچہ کو ذنوب و معاصی سے خالی رکھے یعنی اس کی حفاظت کرے ۔
مزید ملاحظہ ہو : (عمدۃ القاری:
۷
/
۱۱۰
، و لامع الدراری:
۲
/
۱۹۵
، و فرہنگِ آصفیہ:
۳
/
۲۲۱
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.