سلسلہ قادریہ میں ذکر "هوْ" "ياهوْ" کا حکم:

8 min readFatwa Vol 8 #100Urdu

Question

سلسلہ قادریہ کے بعض حضرات
"هوْ" "ياهوْ"
والا ذکر کرتے ہیں اس پر بعض حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ناموں میں "
هو"
کہاں ہے، تو یہ ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟ تو کیا ایسا ذکر ثابت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

یہ ذکر اس سلسلہ کے اکابر سے منقول ہے اور قرآنِ کریم میں اس کی طرف اشارات موجود ہیں:
﴿قل هو الله أحد﴾، ﴿الله لا إله إلا هو﴾، ﴿هوالسميع العليم﴾، ﴿إنه هوالتواب الرحيم﴾، ﴿هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعاً﴾
اور دیگر آیات میں "
هوَ"
میں اس کی طرف اشارات موجود ہیں کہ یہ لفظ بھی اللہ تعالی کے لیے استعمال ہوتا ہے بلکہ صوفیہ حضرات کہتے ہیں کہ لفظِ اللہ اصل میں "
هو"
تھا پھر بعض کہتے ہیں کہ "
هو"
میں لام کا اضافہ تملیک کے لیے کیا گیا اور الف لام کو تعریف و تعظیم کے لیے لایا گیا اور آخر میں واو کے حذف کرنے کے بعد لام اور ہاء کے درمیان الف کو لایا گیا تاکہ مدِ صوت حاصل ہو جائے کیوں کہ دعاؤں میں اور مصیبتوں میں اللہ تعالی کو پکارا جاتا ہے اور پکارنے میں مدِ صوت یعنی الف معاون ہے تو
الله
بن گیا۔ پھر بعض صوفیہ "
هو"
کو ضمیر اور بعض اسم ظاہر کہتے ہیں۔

واختلفوا في لفظة هو هل هي ضمير الغيبة أو اسم ظاهر قولان. (فتح الله: ۲/٤۳۳).

اور بعض صوفیہ فرماتے ہیں کہ لفظِ اللہ اصل میں "
هو"
ہے پھر الف لام کو داخل کیا گیا اور لام کو تعظیم کے لیے مشدد کیا گیا اور اس کے بعد الف کو مد صوت کے لیے لایا گیا اور "
هو"
سے واو کو حذف کر دیا گیا تو
الله
بن گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ صوفیہ کے نزدیک "
هو"
اسم ذات ہے، ہمارے بزرگ حضرت مولانا موسی خان روحانی رحمہ اللہ تعالی "فتح اللہ" میں فرماتے ہیں:

إن لفظ هو اسم الذات عند الصوفية والعارفين وفي أذكارهم يا هو يا هو. (
جلد اول، ص
۳۵۸
)۔ حضرت مولانا روحانی صاحب رحمه الله نے لفظ اللہ کی خاصیات پر دو ضخیم جلدوں میں کتاب لکھی ہے، کتاب کا نام
"فتح الله بخصائص الاسم الله"
ہے یہ کتاب اربابِ تحقیق کے لیے لائق مطالعہ ہے۔
امام رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تفسیر کبیر میں رقم طراز ہیں:
فنقول: فيه أسرار: الأول: إن الرجل إذا قال: يا هو فكأنه يقول: من أناْ حتى أعرفك ومن أناْ حتى أكون مخاطباً لك وما للتراب ورب الأرباب وأي مناسبة بين المتولد عن النطفة والأم وبين الموصوف بالأزلية والقدم إلى قوله فلهذا السبب خاطبه العبد بخطاب الغائبين فقال: يا هو. (التفسير الكبير: ۱/۱۵۳).

امام رازی رحمه الله فرماتے ہیں لفظ
يا هو
میں کچھ اسرار ہیں، پہلا راز یہ ہے کہ جب آدمی
يا هو
کہتا ہے تو گویا بزبانِ حال یہ کہتا ہے کہ میری کہاں رسائی کہ آپ کی ذاتِ عالی کو پہچانوں، اور میری کیا حیثیت کہ آپ سے براہِ راست خطاب کروں، اور مٹھی خاک اور جہاں کے پالن ہار میں کیا تعلق، اور نطفہ سے پیدا ہونے والے کے درمیان اور ذاتِ لازوال، ہمیشہ رہنے والے کے درمیان کیا مناسبت ہو سکتی ہے، پس اسی وجہ سے بندہ اللہ رب العالمین کو غائبانہ خطاب کرتے ہوے "
يا هو"
کہتا ہے۔
شیخ عبد الکریم رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی کتاب
"الإنسان الكامل" (ص ۵۸)
پر لکھتے ہیں:

هوية الحق غيبه الذي لا يمكن ظهوره،
اس کے بعد لکھتے ہیں:
وهي مأخوذة من لفظة "هو" التي للإشارة إلى الغائب وهي في حق الله تعالى إشارة إلى كنْه ذاته باعتبار أسماء ه وصفاته (كتاب الانسان الكامل بحواله فتح الله، ص ٤۳۵).

اور حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمہ اللہ تعالی نے تو مزید نکات اور حکمتیں لکھی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شان اتنی اونچی اور ذات ایسی چھپی ہوئی ہے کہ تین بلکہ چار آلات تعریف کے باوجود آپ کی ذاتِ عالی عقل کے فہم و ادراک سے ما وراء ہے۔ اصل میں
هو
ہے جو معرفہ ہے پھر اس پر الف لام داخل ہوا پھر اس کو اللہ تعالی کے لیے علم بنا دیا گیا ان سب کے باوجود وہ ہماری عقلوں کی پہنچ سے ما وراء ہے پھر لام کو مشدد کرنا تعریف کے مبالغہ کے لیے ہے، اس کے باوجود اللہ تعالی کی ذاتِ عالی ہمارے ادراک سے مخفی ہے۔ شعر:
تو دل میں آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

ژ

پس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
عربی شاعر کہتا ہے:

العجز عن درك الإدراك إدراك
ژ
والبحث عن سر ذات الله إشراك

وہ فرماتے ہیں:
فاجتمع في هذا الاسم المبارك ثلاثة أنواع من التعريف وفي اجتماعها إشارة إلى أن مسماه لكمال عظمته وعلو درجته لا يتعرف بشيء من آلات التعريف.
پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں:
وفي هذا الاسم الشريف أي اسم الله دخلتا أي الألف واللام على المعرفة وهي هاء الضمير كما ذكره بعض المحققين من أن اسم الله تعالى مسماه وهو الهاء الدالة على غيب الهوية والألف واللام للتعريف ففي إتيان حرف التعريف إيماء إلى أن تعريف الضمير لا يكفي لتعين المشار إليه ولابد من آلة أخري ثم تشديد اللام للمبالغة في التعريف.

یہ تحقیقات مولانا موسی صاحب رحمه الله نے مجددِ الف ثانی کے رسالہ
"المعارف اللدنية"
سے نقل فرمائی ہیں۔ (
۲
/
۴۳۵
)۔
علامہ آلوسی رحمه الله روح المعانی میں تحریر فرماتے ہیں:

وقيل: أصله الكناية لأنها للغائب وهو سبحانه الغائب عن أن تدركه الأبصار أو تحيط به الأفكار وأيضاً "الهاء" يخرج مع الأنفاس فهو المذكور وإن لم تشعر الحواس ومتي انقطع خروجه انقطعت الحياة وحَلَّ بالحي الممات. (روح المعاني: ۱/۵٦).
اور یہ بھی لکھا ہے:
فالأصل هو إذا لا يبقي سواه.
یہ بھی لکھا ہے:
مال كثير من الصوفية إلى هذا القول وهو إلى المشرب قريب. (روح المعاني: ۱/ ۵٦).

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لفظِ اللہ اصل میں
هو
ہے اور یہ ضمیر غائب ہے اس لیے کہ اللہ تعالی نگاہوں کے ادراک سے اور عقلوں کے احاطہ سے غائب ہے اور جب ہم سانس لیتے ہیں تو اس میں بھی
هوْ، هوْ
کی آواز محسوس ہوتی ہے یعنی جب تک
هو
کی آواز نکلتی ہے تو حیات ہے ورنہ موت ہے۔ شمس المعارف میں ہے:

فأما اسمه تعالى هو فهو ضمير الغيبة وهو من أسماء ه تعالى إذ الغيبة الحقيقية إنما هي له إذ لا تصوره العقول ولا تجده الأوهام. (شمس المعارف لا حمد بن علي: ۱/۱٤۸، كذا في فتح الله: ۱/۳۵۸).

علامہ محمد بن بخیت المطیعی الحنفی مفتی الدیار المصریہ نے بھی ذکر لفظ "
هو"
کا جواز تحریر فرمایا ہے۔
ملاحظہ کیجیے اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:

لا يجوز الذكر بشيء من الألفاظ المذكورة بهذا السؤال إلا بلفظ هو، ولفظ حيّ،

وأما جميع الألفاظ المذكورة بهذا السؤال فلم يرد واحداً منها في القرآن ولا في الأحاديث الصحيحة اسماً لله تعالى إلا لفظ "هو" و"حيّ" مشدداً. (الفتاوي، ص ٤۲۳، ط: دار الصديق للعلوم).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.