دورہ کے لیے مشہور مدرسہ میں جانے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 8 #223Urdu

Question

بعض طلباء کسی چھوٹے مدرسہ میں ابتدا سے ہدایہ یا مشکوۃ تک تعلیم حاصل کرتے ہیں پھر موقوف علیہ یا دورہ کے لیے کسی بڑے مدرسہ میں کسی مشہور شخصیت کے پاس جاتے ہیں تو سابقہ مدرسہ کے بعض اساتذہ یا مہتمم صاحب ان کو عاق گردانتے ہیں اور ناراض ہو جاتے ہیں، اس صورت میں طالبِ علم کے لیے جانا درست ہے یا نہیں ؟ اور یہ کام نافرمانی میں داخل ہو گا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ طالبِ علم کے لیے دوسرے مدرسہ میں جانا درست ہے اور یہ نافرمانی میں داخل نہیں ہے۔ درجِ ذیل چند وجوہات کی بنا پر:
(۱) سابقہ اساتذہ یا مہتمم کا منع کرنا مشورہ کے درجہ میں ہے اور مشورہ کا قبول کرنا واجب نہیں ہے، یہ حکمِ شرعی نہیں ہے۔ جیسے حضرت بریرہ نے حضور ﷺ کا مشورہ قبول نہیں فرمایا اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام ناراض نہیں ہوے۔ بخاری شریف میں ہے:
قال النبي ﷺ لو راجعته قالت: يا رسول الله! تأمرني، قال: إنما أنا أشفع قالت: فلا حاجة لي فيه. (صحيح البخاري، رقم: ۵۲۸۳، باب شفاعة النبي ﷺ في زوج بريرة).

(۲) طالبِ علم کے لیے استاذ باپ کے درجہ میں ہے اور باپ کے ایسے حکم کو جس میں نہ باپ کو کوئی ضرر ہو نہ بیٹے کا کوئی نقصان ہو ماننا واجب نہیں ہے۔ اسی طرح اگر والد خلافِ اولی یا خلاف مستحب کا حکم کرے تب بھی ماننا ضروری نہیں ، استاذ بھی اسی طرح ہے۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ حضرت نبی ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا، حضرت عباس رضی الله عنه جو آپ کے چچا تھے اور حدیث میں ہے: "
العم صنو أبيه" (مسلم شريف، رقم: ۹۸۳)
تشریف لائے اور مال کی خواہش ظاہر کی، آپ نے فرمایا لے لو حضرت عباس رضی الله عنه نے اتنا لیا کہ اٹھا نہ سکے تو آپ ﷺ سے عرض کیا کہ کسی کو حکم دیجیے کہ میرے کندھے پر ڈال دے آپ نے منع فرمایا، پھر عرض کیا: آپ خود میرے کندھے پر رکھ دیجیے تو بھی آپ ﷺ نے منع فرمایا، دوسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، حضرت عباس
رضي الله عنه
آپ ﷺ کے چچا تھے مگر اس کے باوجود آپ نے حکم نہیں مانا کیونکہ اتنا سارا مال لینا اولی اور بہتر کام نہیں تھا۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں روایت ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أتي النبي ﷺ بمال من البحرين فقال: انثروه في المسجد وكان أكثر مال أتي به رسول الله ﷺ

إذ جاء ه عباس رضي الله عنه، فقال: يا رسول الله! أعطني فإني فاديت نفسي وفاديت عقيلاً فقال له رسول الله ﷺ: خذ فحثا في ثوبه ثم ذهب يقله فلم يستطع فقال: يا رسول الله! مر بعضهم يرفعه إلي، قال: لا، قال: فارفعه أنت علي، قال: لا، فنثر منه ثم ذهب يقله فقال: يا رسول الله! مر بعضهم يرفعه علي، قال: لا، قال: فارفعه أنت علي، قال: لا، فنثر منه ثم احتمله فألقاه على كاهله ثم انطلق فما زال رسول الله ﷺ يتبعه بصره حتى خفي علينا عجباً من حرصه. (صحيح البخاري: ۱/٦۰، باب القسمة وتعليق القنوفي المسجد، ط: فيصل).

مزید ملاحظہ ہو: (الفتاوی الہندیۃ:
۳
/
۱۳٦
، و بہشتی زیور:
۱۱
/
۱٤۸
، دار الاشاعت، و احسن الفتاوی:
۸
/
۱۸۱
)۔
نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه کے والد ابو قحافہ رضی الله عنه نے حضرت ابوبکر
رضي الله عنه
کو منع کیا تھا کہ کمزور غلاموں پر مال خرچ نہ کرے لیکن انہوں نے نہیں مانا، اور ہمیشہ خرچ فرمایا۔ ملاحظہ ہو مستدرکِ حاکم میں روایت ہے:

عن عبد الله بن الزبير رضي الله عنه قال: قال أبو قحافة لا بي بكر: أراك تعتق رقاباً ضعافاً فلو أنك إذ فعلت ما فعلت اعتقت رجالاً جلداً يمنعونك ويقومون دونك فقال أبو بكر: يا أبت إني إنما أريد ما أريد لما نزلت هذه الآيات فيه: فأما من أعطي واتقي وصدق بالحسني فسنيسره لليسرى

هذا حديث صحيح على شرط مسلم. (المستدرك للحاكم: ۲/۵۲۵/ ۳۹٤۲).

(۳) فقہاء نے ایک مرشد کے بعد دوسرے مرشد سے بیعت کو جائز لکھا ہے اگر چہ پہلا مرشد بظاہر ناراض ہوتا ہوگا، لیکن اگر پہلا مدرسہ بہتر ہو یا دونوں برابر ہوں تو پھر استاذ کا حکم مان لیں اس میں برکت ہے۔
تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

رجل من الصوفية أخذ العهد على رجل ثم اختار الرجل شيخاً آخر وأخذ عليه العهد فهل العهد الأول لا زم أم الثاني؟
الجواب: لا يلزمه العهد الأول ولا الثاني ولا أصل لذلك. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۳٦۹). (
و کذا فی الحاوی للفتاوی للامام السیوطی: ۱/۳۷۲۔ و نقل عنہ الشامی فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ)۔
(٤) امام مسلم رحمه الله اپنے استاذ امام محمد بن یحیی ذہلی سے بعض وجوہات کی بنا پر ناراض ہو گئے تھے اور ان کی مرویات کو واپس کر دیا تو امام مسلم عاق نہیں ہوئے، تو اگر تلمیذ استاذ کی جگہ دوسرے معلم کو اختیار کر لے تو کیسے عاق شمار ہو گا؟ ملاحظہ ہو حافظ ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں:

قال الخطيب: وقد وقع بين البخاري ومحمد بن يحيى الذهلي في مسألة اللفظ بالقرآن في نيسابور، وكيف نودي على البخاري بسبب ذلك بنيسابور، وأن الذهلي قال يوماً لا هل مجلسه وفيهم مسلم بن الحجاج: ألا من كان يقول بقول البخاري في مسألة اللفظ بالقرآن فليعتزل مجلسنا. فنهض مسلم من فوره إلى منزله، وجمع ما كان سمعه من الذهلي جميعه وأرسله إليه وترك الرواية عن الذهلي بالكلية فلم يرو عنه شيئاً لا في صحيحه ولا في غيره، واستحكمت الوحشة بينهما. هذا ولم يترك البخاري محمد بن يحيى الذهلي بل روي عنه في صحيحه وغيره وعذره رحمه الله. (البداية والنهاية: ۱۱/٤۱، الإمام مسلم، ط: دار المعرفة بيروت).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.