معذور شخص کا چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم:
Question
ایک شخص ایسا معذور ہے کہ وہ کھڑے ہو کر رکوع، سجدہ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے، بلکہ بستر سے اترنے کی بھی طاقت نہیں ہے تو کیا بستر پر چوکڑی مار کر نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
اگر معذور شخص رکوع، سجدہ پر قادر نہیں ہے، تو وہ چار پائی پر چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ چار پائی پاک صاف ہو، لیکن اگر رکوع سجدہ کی طاقت ہے اور قیام کی طاقت نہیں ہے تو پھر چار پائی پر بیٹھ کر رکوع سجدہ کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔ رکوع، سجدہ کا اشارہ کافی نہ ہوگا۔
ملاحظہ ہو مبسوط میں مذکور ہے:
وأما إذا كان قادراً على القيام وعاجزاً عن الركوع والسجود، فإنه يصلي قاعداً بإيماء وسقط عنه القيام؛ لأن هذا القيام ليس بركن؛ لأن القيام إنما شرع لافتتاح الركوع والسجود به، فكل قيام لا يعقبه سجود لا يكون ركناً، ولأن الإيماء إنما شرع للتشبه بمن يركع ويسجد والتشبه بالقعود أكثر. (المبسوط للإمام السرخسي: ۱/۲۱۳، دار المعرفة، بيروت).
قال في الدر المختار: من تعذر عليه القيام لمرض قبلها أو فيها أو خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألماً شديداً أو كان لو صلى قائماً سلسل بوله أو تعذر عليه الصوم، صلى قاعداً ولو مستنداً إلى وسادة
فإنه يلزمه ذلك على المختار، كيف شاء بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام قام. (الدر المختار: ۲/۹۵، سعيد).
وفي الشامية: قوله كيف شاء أي كيف تيسر له بغير ضرر من تربع أو غيره. (رد المحتار: ۲/۹۷، سعيد). (وكذا في تبيين الحقائق: ۱/۲۰۲، والعناية: ۲/٦، والفتاوى الهندية: ۱/۱۳٦).
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
کوئی شخص مسجد میں آ سکتا ہے لیکن بوجہ مرض کھڑا ہو کر باجماعت نماز نہیں پڑھ سکتا، ایسے شخص کو بیٹھ کر باجماعت فرض نماز ادا کرنا جائز ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۷/۵٦۳، جامعہ فاروقیہ)۔
کتاب الفتاوی میں مرقوم ہے: معذوروں کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ (کتاب الفتاوی: ۲/٤٦۷)۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
نماز میں قیام فرض ہے، البتہ اگر مریض کو قیام پر قدرت حاصل ہو اور مرض کی زیادتی کا اندیشہ نہ ہو، کھڑے ہونے سے کوئی تکلیف بھی نہ ہوتی ہو تو بلا عذر قیام ترک کرنا جائز نہیں، البتہ معذور شخص کو قیام ترک کرنا مرخص ہے۔ (فتاوی حقانیہ: ۳/۳۳۳، و كذا فی فتاوی رحیمیہ: ۳/۳٦۳)۔
بعض احادیث میں مریض کے لیے چار زانو بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے؛
أخرج الإمام البخاري في صحيحه (۸۲۷)بسنده عن عبد الرحمن بن قاسم عن عبد الله بن عبد الله أنه أخبره أنه كان يرى عبد الله بن عمر رضي الله عنه يتربع في الصلاة إذا جلس ففعلته وأنا يومئذٍ حديث السن فنهاني عبد الله بن عمر وقال: إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى فقلت: إنك تفعل ذلك فقال: إن رجلي لا تحملاني.
وأخرج الإمام محمد بن حسن في مؤطا (۱۵۲)عن مالك عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر رضي الله عنه: أنه صلى إلى جنبه رجل فلما جلس الرجل تربع وثنى رجليه فلما انصرف ابن عمر رضي الله عنه عاب ذلك عليه قال الرجل: فإنك تفعله قال: إني أشتكي.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3330
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3330