تراویح میں تجوید کی غلطیاں بتانے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #163Urdu

Question

تراویح کی نماز میں حافظ صاحب کی تجوید کی غلطیاں بتانا درست ہے یا نہیں؟

Answer

نماز میں لقمہ دینا بوقتِ ضرورت جائز ہے، بلا ضرورت نہیں دینا چاہیے، نیز اس میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، تلاوت کی غلطیاں دو قسم پر ہیں: (۱) لحن جلی۔ (۲) لحن خفی۔
لحن جلی وہ غلطی ہے جس سے قرآن کا معنی و مطلب بدل جاتا ہے، تو ایسے وقت لقمہ دینا چاہیے بلکہ کبھی ضروری ہوتا ہے جب نماز میں فساد لازم آتا ہو۔
البتہ ایسی غلطی جس سے معنی نہیں بدلتا لیکن لفظ غلط ہو، جیسے بعض علاقوں والے ک کو چ پڑھتے ہیں؛ اللہ اکبر کو اللہ اچبر کہتے ہیں، یا جیسے کیپ ٹاؤن والے ح کو خ میں تبدیل کرتے ہیں، مثلاً: الحمد تو الخمد کہتے ہیں تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی، لہذا لقمہ دینے کی ضرورت نہیں۔ ملاحظہ ہو اشرف الاحکام میں ہے:
غلط پڑھتے پڑھتے عادت ہو جائے تو وہ اس کا تلفظ ہو جائے گا، امام فضلی رحمه الله کا قول ہے کہ جس شخص کو غلط لفظ پڑھتے پڑھتے اس کی عادت ہو گئی تو وہ اس کی لغت ہو جائے گا لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے صحیح قرآن پڑھنے والے کی نماز صحیح ہو جائے گی، چنانچہ ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں ایک ترکی امام کے پیچھے حضرت مولانا قاسم صاحب رحمه الله اور کئی علماء نے نماز پڑھی، ترکی ک کی جگہ چ پڑھتے ہیں، امام نے بھی ایاک نعبد کی جگہ ایاچ نعبد پڑھا، سب لوگوں نے نماز لوٹائی مگر مولانا قاسم صاحب نے نہیں لوٹائی اور یہی ارشاد فرمایا۔ (اشرف الاحکام، تتمہ امداد الفتاوی، ص ۵۹، بحوالہ انفاس عیسی: ۲/ ٤۳٤، ط: اسلامیات)۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:

وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بأن قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد وإن لم يكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳۱، سعيد).

(۲) لحن خفی؛ وہ غلطی ہے جس سے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جیسے ترکِ مد فرعی، اخفا، غنہ وغیرہ، تو ان میں لقمہ نہیں دینا چاہیے کیوں کہ ان کی وجہ سے نماز میں کوئی فساد نہیں آتا۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله وإلا لا، أي وإن لم يغير المعنى فلا فساد إلا في حرف مد ولين إن فحش فإنه يفسد، وإن لم يغير المعنى، وحروف المد واللين هي حروف العلة الثلاثة: الألف، والواو والياء، إذا كانت ساكنة وقبلها حركة تجانسها، فلو لم تجانسها فهي حروف علة ولين لا مد. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳۰، سعيد).
قال في الهندية: ذكر في الفوائد: لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ثم رجع وقرأ صحيحاً قال: عندي صلاته جائزة وكذلك الإعراب ولو قرأ النصب مكان الرفع والرفع مكان النصب أو الخفض مكان الرفع أو النصب لا تفسد صلاته. (الفتاوى الهندية: ۱/۸۲).

بوقتِ ضرورت نماز میں لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ ملاحظہ ہو: (الہدایۃ: ۱/۱۳٦، المصباح، و المبسوط: ۱/۱۹۳، ادارۃ القرآن، و المحیط البرہانی: ۱/۳۷۷)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.