تلاوت میں بعض حروف کی تبدیلی سے نماز کا حکم:
Question
بعض ممالک میں بڑے بڑے مشائخ جب قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو بعض حروف کو تبدیل کرتے ہیں، مثلاً: اللہ اکبر، کی جگہ، اللہ اجبر پڑھتے ہیں، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ نماز میں بھی اسی طرح تلاوت کرتے ہیں، ان کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
اگر کسی کو غلط پڑھنے کی عادت ہو جائے اور ایسی غلطی جس سے معنی میں تبدیلی نہیں آتی، تو نماز فاسد نہیں ہو گی، اور اس کے پیچھے پڑھی ہوئی نماز درست ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:
وإن كان الخطأ بإبدال حرف بحرف، فإن أمكن الفصل بينهما بلا كلفة كالصاد مع الطاء بان قرأ الطالحات مكان الصالحات فاتفقوا على أنه مفسد وإن لم يمكن إلا بمشقة كالظاء مع الضاد والصاد مع السين فأكثرهم على عدم الفساد لعموم البلوى. (فتاوى الشامي: ۱/٦۳۱، سعيد).
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله اشرف الاحکام میں رقم طراز ہیں:
امام فضلی رحمه الله کا قول ہے کہ جس شخص کو غلط لفظ پڑھتے پڑھتے اس کی عادت ہو گئی تو وہ اس کا لغت ہو جائے گا لہٰذا ایسے شخص کے پیچھے صحیح قرآن پڑھنے والے کی نماز صحیح ہو جائے گی چنانچہ ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں ایک ترکی امام کے پیچھے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور کئی علماء نے نماز پڑھی، ترکی ک کی جگہ چ پڑھتے ہیں، امام نے بھی ایاک کی جگہ ایاچ نعبد پڑھا سب لوگوں نے نماز لوٹائی مگر مولانا قاسم صاحب رحمه الله نے نہیں لوٹائی اور یہی ارشاد فرمایا۔ (اشراف الاحکام، ص ۵۹، بحوالہ: انفاسِ عیسی ج ۲ ص ٤۳٤، ط: ادارۂ اسلامیات کراچی)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3455
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3455