عید کی رات دروازے پر صدقہ کا بیگ پایا:

3 min readFatwa Vol 9 #248Urdu

Question

عید کی رات ایک صاحب کے دروازے پر کوئی غائبانہ فطرے کے چاول رکھ کر چلا گیا، اب وہ شخص خود مالدار ہے تو کیا اس کی قیمت صدقہ کر کے خود استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بظاہر مالک نے صاحب خانہ کو مستحق سمجھ کر چاول کا بیگ رکھ دیا، لیکن جب صاحب خانہ مستحق نہیں ہے تو مالک کو پہنچا دے اور اگر مالک تک پہنچانا مشکل یا ناممکن ہو تو اس کی طرف سے صدقہ کر دے لیکن مالدار کو خود استعمال کرنا درست نہیں، نیز یہ چاول بحکمِ امانت ہیں اس میں تبدیلی کی بھی اجازت نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:

قال في شرح الوهبانية وفي البزازية قال الإمام الحلواني إذا كان عنده وديعة فمات المودع بلا وارث له أن يصرف الوديعة إلى نفسه في زماننا هذا، لأنه لو أعطاها لبيت المال لضاع؛ لأنهم لا يصرفون مصارفه فإذا كان من أهله صرفه إلى نفسه وإن لم يكن من المصارف صرفه إلى المصرف. (فتاوى الشامي: ۲/۳۳٦، سعيد، وكذا ٤/۱۵۹، و ٦/۷۳٤، سعيد).

فتاوی حقانیہ میں ہے:
امین کو اگر امانت رکھنے والے کا اَتہ پتا معلوم نہ ہو تو خود اس مال کو امانت رکھنے والے کی طرف سے صدقہ کر دے یا صدقہ کی وصیت کر جائے، البتہ اگر امین فقیر ہو تو خود بھی کھا سکتا ہے
الخ. قال العلامة الحصكفي رحمه الله: فينتفع الرافع بها لو فقيراً وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه

(الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۲۷۹، ط: سعيد)،
(فتاوی حقانیہ: ٦/٤۰۳) ۔
فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:
سوال: ایک شخص کے پاس امانت ہے، کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی مالک کا کوئی پتا نہیں ہے، اب اس امانت کا کیا حکم ہے؟ مزید کتنی مدت اس کو رکھا جائے گا؟ اور مالک کے نہ آنے پر اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
الجواب: بصورتِ مسئولہ اگر غالب گمان یہ ہے کہ مالک مر گیا ہو گا یا نہیں آئے گا اور نہ کسی وارث کا علم ہے تو اس کا حکم لقطہ کی طرح ہے اگر غنی ہے تو صدقہ کر دے اور اگر خود محتاج ہے تو استعمال کرنے کی اجازت ہے ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ٦/۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.