مالک کے لا پتا ہونے پر امانت کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #25Urdu

Question

ایک شخص کے پاس امانت ہے، کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی مالک کا کوئی پتا نہیں ہے، اب اس امانت کا کیا حکم ہے؟ مزید کتنی مدت اس کو رکھا جائے گا؟ اور مالک کے نہ آنے پر اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر غالب گمان یہ ہے کہ مالک مر گیا ہوگا یا نہیں آئے گا اور نہ کسی وارث کا علم ہے تو اس کا حکم لقطہ کی طرح ہے اگر غنی ہے تو صدقہ کر دے اور اگر خود محتاج ہے تو استعمال کرنے کی اجازت ہے، البتہ اگر مالک آ کر امانت کا مطالبہ کرے تو قیمت ادا کر دینا ضروری ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قال في شرح الوهبانية: وفي البزازية قال الإمام الحلواني: إذا كان عنده وديعة فمات المودع بلا وارث له أن يصرف الوديعة إلى نفسه في زماننا هذا، لأنه لو أعطاها لبيت المال لضاع لا نهم لا يصرفون مصارفه فإذا كان من أهله صرفه إلى نفسه وإن لم يكن من المصارف صرفه إلى المصرف. (فتاوى الشامي: ۲/ ۳۳٦، باب العشر، سعيد، وكذا في: ٤/ ۱۵۹، سعيد و٦/ ۷۳٤، سعيد).
(وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/ ۲۰۷

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.