شوہر کے نا قابل جماع ہونے پر تفریق کا حکم:

12 min readFatwa Vol 9 #331Urdu

Question

ایک عورت کا شوہر کسی حادثہ میں زخمی ہوا، جس کی وجہ سے اس کا عضو مخصوص کٹ گیا یا ناقابل جماع ہو گیا، ان دونوں کے بچے بھی ہیں، عورت جوان ہے، اس نے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کیا، شوہر نے انکار کیا، کیا اِس صورت میں عورت کے لیے اس مرد سے چھٹکارے کا شرعاً کوئی راستہ ہے یا نہیں؟ کیا یہ عورت اپنا معاملہ جماعت مسلمین کے سامنے پیش کر کے نکاح فسخ کرانے کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟ نیز جماعتِ مسلمین کو شرعاً اس معاملہ میں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ احناف کا اصل مذہب یہ ہے کہ شادی کے بعد جب ایک بار شوہر ہم بستری کر لے پھر اس کے بعد کسی وجہ سے قادر نہ ہو سکے تو عورت کو فسخ کا مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ عام فقہاء نے فقہ کی کتابوں میں اسی طرح تحریر فرمایا ہے نیز مصنف ابن ابی شیبہ میں چند تابعین کے آثار بھی اس کی تائید کرتے ہیں ۔ چنانچہ صورتِ مسئولہ میں جب بار بار ہم بستری ہو چکی ہے اور دونوں کے بچے بھی ہیں تو عورت کو صبر سے کام لینا چاہیے اور بچوں کی پر ورش کی طرف توجہ صرف کرنی چاہیے کہ اس میں بچوں کے ضائع ہونے سے حفاظت بھی ہے، نیز عورت کو چاہیے کہ اپنے خیالات کا قبلہ درست کرے اور اگر شہوت کا غلبہ ہو تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور ان کے مشورہ سے نفسانی خواہش کو دبانے والی دوائیاں استعمال کرے اور اپنے بچوں کو اپنے مستقبل کا سرمایہ اور پونجی سمجھ لے، اللہ تعالی بے حساب اجر دیں گے اور فسخ و تفریق کا مطالبہ نہ کرے ۔
علماء اور فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:

قال في البحر الرائق: وجدت زوجها مجبوباً فرق في الحال، وهو من استؤصل ذكره وخصيتاه

وأشار إلى أنه لو جب بعد الوصول إليها مرة لا خيار لها كما صار عنيناً بعده. (البحر الرائق: ٤/۱۳۳، ط: دار المعرفة). (وكذا في الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/٤۹۵، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۵۲۵، وتبيين الحقائق: ۳/۲۲، إمداديه).

مصنف ابن ابی شیبہ میں چند آثار منقول ہیں:

عن الحسن قال: إذا وصل إليها مرة لم يفرق بينهما. وعن الزهري: إذا قدر عليها مرة فهي امرأته أبداً. وعن عطاء قال: إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة. وعن عمرو بن دينار، قال: ما زلنا نسمع أنه إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة، وعن طاووس، قال: إذا أصابها مرة فلا كلام لها ولا خصومة. وعن قتادة وأبي هاشم قالا: إن تزوجها ثم وطئها مرة ثم لم يستطع أن يغشاها، فإنه لا خيار لها بعد تلك المرة. وعن إبراهيم قال: إذا وطئها مرة فليس لها خيار. (مصنف ابن أبي شيبة: ٤/۲۰۹، باب: إذا وصل مرة ثم حبس عنها).
وقال في" الفوائد العلية على الأحكام الشرعية في الأحوال الشخصية على مذهب الإمام أبي حنيفة النعمان ": مادة:
۱۵۱
: يجب قضاءً على الزوج أن يواقع مرة واحدة في مدة الزوجية. أي يجب عليه في القضاء مرة واحدة، ويؤمر بها ديانة، أي فيما بينه وبين الله تعالى، وقال بعضهم: بل يجب عليه الزيادة قضاءً أيضاً، لدفع الضرر عنها ولتأتي بالأولاد التي هي أهم مقاصد الزواج، والله أعلم. (ص: ۸۷).

احوالِ شخصیہ کی عبارت سے بھی پتا چلتا ہے کہ مدتِ زوجیت میں ایک مرتبہ ہم بستری سے قضاء ً عورت کا واجب حق ساقط ہو جاتا ہے، ہاں دیانۃً حق باقی ہے لہٰذا صحت اور تندرستی کی حالت میں احیاناً شوہر کو اس کی رعایت کرنی چاہیے، البتہ بحالتِ مجبوری حق دیانت بھی ساقط ہو جاتا ہے، جیسا کہ فتاوی دار الافتاء المصریہ میں مرقوم ہے، (عبارت آگے آ رہی ہے) اور جو بعض فقہاء نے قضاء ً بھی تکرار کو واجب قرار دیا ہے تو یہ دفع ضرر کے لیے ۔
جدید فقہی مسائل میں مذکور ہے:
اس مسئلہ میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اکثر فقہاء کے نزدیک اگر مرد نے ایک بار بھی عورت سے مباشرت کر لی تو عورت کا حق جنسی ختم ہو جاتا ہے اور آئندہ اگر مرد نامرد بھی ہو جائے تو عورت فسخ نکاح کا مطالبہ نہیں کر سکتی علامہ صنعانی رحمه الله نے لکھا ہے کہ اوزاعی رحمه الله، سفیان ثوری رحمه الله، امام ابو حنیفہ رحمه الله، امام مالک رحمه الله، امام شافعی رحمه الله اور اسحاق بن راہویہ رحمه الله کا یہی مسلک ہے فقہاء نے یہ بات بہت واضح اور صریح انداز میں تحریر فرمائی ہے:

ولو وطيها مرة ثم عجز عن الوطي في هذا النكاح لا يكون لها حق الخصومة. (شرح النقاية للبرجندي: ۲/۵٦).
(جدید فقہی مسائل: ۳/۱۸۸) ۔
فتاوی دار الافتاء المصریہ میں ۱۳۱۰؁ ھ کا ایک فتوی منقول ہے، اس میں بحوالہ شامی اور بحر، یہ بات مکتوب ہے کہ قضاء ً عورت کا حق ایک مرتبہ کا ہے، اگر شادی کے بعد ایک مرتبہ ہم بستری ہو گئی تو قضاء ً حق ساقط ہو گیا یعنی عورت کو فسخ کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں، ہاں دیانۃً حق باقی ہے شوہر قدرت کے باوجود ستانے کی غرض سے ہم بستری نہ کرے تو گنہگار ہو گا، اور اگر معقول عذر ہو تو گنہگار نہیں ہو گا ۔ عربی فتوی ملاحظہ فرمائیں:

ولو تزوج ووصل إليها ثم عجز عن الوطء بعد ذلك، وصار عنيناً، لم يكن لها حق الخصومة، وعلى أنه (الدر المختار شرح تنوير الابصار للعلائي وحاشية رد المحتار لا بن عابدين: ۲/۹۱۷، ۱۹۸. والبحر الرائق لا بن نجيم المصري الحنفي: ٤/۱۳۵) فلو جُن بعد وصوله إليها مرة أو صار عنيناً بعد الوصول إليها لا يفرق بينهما لحصول حقها بالوطء مرة، وما زاد عليها فهو مستحق ديانة لا قضاء، ويأثم إذا ترك الديانة متعنتاً مع القدرة على الوطء. (فتاوى دار الإفتاء المصرية: ۱/۳۲۷، ط: وزارة الأوقاف المصرية).

البتہ زمانہ حال کے علماء میں سے حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب کی رائے یہ ہے کہ بعد میں پیدا ہونے والی نامردی کو بھی فسخ کا موجب قرار دیا جائے، چنانچہ پہلے مشہور مذہب کی وضاحت کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ہمیں چاہیے کہ اس مسئلہ پر قرآن و حدیث اور قیاس کی روشنی میں غور کریں، اس مسئلہ کا اصل مدار اس پر ہے کہ ایک دفعہ جماع کے بعد عورت کا حق ہے یا نہیں؟ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ عورت کا حق اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے تو ظاہر ہے ایک دفعہ مباشرت کے بعد بھی نامردی فسخ نکاح کا باعث ہو گی اور اگر ایک دفعہ جماع سے عورت کا حق صحبت ساقط ہو جاتا ہے تو ظاہر ہے اب اس کے لیے فسخ نکاح کا مطالبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو گی ۔
ابن حزم کی رائے ہے کہ ہر طہر میں کم از کم ایک دفعہ مرد پر عورت سے صحبت کرنا واجب ہے اس لیے کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
فإذا تطهرن فأتوهن من حيث أمركم الله. [البقرة: ۲۲۲]، اور
شیخ سابق نے لکھا ہے کہ جمہور علماء کی یہی رائے ہے،
وذهب جمهور العلماء إلى ما ذهب إليه ابن حزم من الوجوب على الرجل إذا لم يكن له عذر.

امام احمد رحمه الله کی رائے ہے کہ کم از کم چار ماہ میں ایک دفعہ مباشرت واجب ہے، اس لیے کہ ایلاء کی مدت چار ماہ ہے اور اگر شوہر سفر پر ہو تب بھی چھ ماہ میں ایک بار ضرور آئے اور صحبت کرے، یہاں تک کہ اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کر دے اور عورت علیحدگی کی طالب ہو تو قاضی دونوں میں تفریق کر دے گا، امام احمد کی دلیل وہ واقعہ ہے جو زید بن اسلم نے حضرت عمر رضی الله عنه سے نقل کیا ہے کہ ایک بار آنجناب رضی الله عنه مدینہ کا جائزہ لینے نکلے، ایک خاتون کے مکان سے گزر ہوا جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی ۔

تطاول هذا الليل وأسود جانبه
ظ
وطال علي أن لا خليل ألاعبه
والله لولا خشية الله وحده
ظ
لحرك من هذا السرير جوانبه
ولكن ربي والحياء يكفيني
ظ
وأكرم بعلي أن توطأ راكبه

ترجمہ: رات طویل ہو گئی اور رات کا کنارہ سیاہ ہو گیا اور مجھ پر یہ بات گراں ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں جس کے ساتھ میں کھیلوں، خدا کی قسم اگر خدائے واحد کا خوف نہ ہوتا تو اس چار پائی کے کنارے ہل رہے ہوتے، لیکن میرا پروردگار اور میری غیرت میرے لیے کافی ہے اور میں اپنے شوہر کی تعظیم کروں گی اس بات سے کہ اس کی سواری روندی جائے ۔
حضرت عمر
رضي الله عنه
نے اس عورت کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے شوہر جہاد میں گئے ہیں، آپ رضی الله عنه نے حضرت حفصہ رضی الله عنہ سے دریافت کیا کہ ایک عورت شوہر کے بغیر کتنے دن صبر کر سکتی ہے؟ حضرت حفصہ رضی الله عنه پہلے شرمائیں پھر آپ رضی الله عنه کے اصرار پر بتایا پانچ چھ ماہ، چنانچہ آپ رضی الله عنه نے مجاہدین کے لیے اصول متعین کر دیا کہ وہ چھ ماہ جہاد میں رہیں، چار ماہ گھر پر، ایک ماہ میں آمد کا سفر اور ایک ماہ میں واپسی کا سفر طے کریں
یہ تمام شواہد اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ جماع جس طرح مرد کا حق ہے اسی طرح عورت کا بھی مستقل حق ہے اور ایک دفعہ کی ہم بستری سے ساقط نہیں ہوتا، اس کی سب سے واضح دلیل ایلاء ہے، اگر ایک دفعہ کی مباشرت کے بعد عورت کا حق جماع ساقط ہو جاتا تو ضرور تھا کہ قرآنِ مجید ایلاء کی صورت میں صحبت یا تفریق کو اس وقت واجب قرار دیتا جب پہلے کبھی مباشرت کی نوبت ہی نہ آئی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
چنانچہ ابو ثور کا خیال ہے کہ اگر شوہر ایک بار جماع کرنے کے بعد نامرد ہو جائے تو بھی اس کا نکاح فسخ کیا جائے گا، ہمارے زمانہ میں جو فتنہ کا زمانہ ہے اور جب بے حیائی، فحاشی اور زنا کی (کہا جا سکتا ہے کہ) تبلیغ ہو رہی ہے اور حکومت و قانون کی نظر میں جب تک جبر نہ ہو زنا جرم ہی نہیں ہے، ضروری ہے کہ اس رائے پر عمل کیا جائے اور بعد میں پیدا ہونے والی نامردی کو بھی فسخ کا موجب قرار دیا جائے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۳/۱۸۸ ۔ ۱۹٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.