بحالت جبر و آ کراہ وقوعِ طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #107Urdu

Question

اگر کسی نے دوسرے کو طلاق پر مجبور کیا کہ اگر طلاق نہیں دیتے تو تمہاری پٹائی کرتے ہیں، تو کیا پٹائی آ کراہ میں آتی ہے یا آ کراہ میں قتل اور ہاتھ وغیرہ کا کاٹنا مراد ہے؟ اور مکرہ کی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ حالت آ کراہ میں مکرہ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور آ کراہ میں قتل اور قطع ید وغیرہ مراد ہے ۔ ملاحظہ ہو خزانۃ الفقہ میں فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمه الله فرماتے ہیں:

إذا أكره رجلاً بقتل أو تلف عضو من أعضائه أو بأمر يخاف منه تلف نفسه أو ذهاب عضو من أعضائه أن يطلق امرأته

إلى قوله ففعل ذلك جاز. (خزانة الفقه: ۳۳۳، ۳۳٤، كتاب الإكراه، باب ما تصح مع الإكراه، المكتبة الغفورية).

شرح منظومہ ابن وہبان میں مذکور ہے:

أن الإكراه يحصل بالضرب أو بالحبس أو بالقيد. قال: واعلم أن أصحابنا أجمعوا على أن الإكراه بوعيد تلف النفس أو عضو من الأعضاء إكراه معتبر شرعاً، سواء حصل على فعل أو قول. وإن حصل الإكراه بالحبس والتقييد، فإن كان على فعل فليس بمعتبر شرعاً، ويجعل كأن المكرَه فعل ذلك بغير إكراه، وإن كان على قول لا يستوي فيه الجد والهزل، كالبيع والشراء والوقف والهبة والإجارة والبراء ة والصدقة، فيعتبر شرعاً، كما سيأتي في البيت الذي بعد هذا. وإن كان على ما يستويان فيه كالطلاق والعتاق فغير معتبر. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲/۸۷، فصل من كتاب الحجر والإكراه، الوقف المدني، ديوبند).

ترجمہ: بے شک آ کراہ حاصل ہوتا ہے مار پٹائی سے یا قید و بند سے، مصنف رحمه الله فرماتے ہیں کہ جان لو ہمارے فقہائے احناف کا اس بات پر اجماع ہے کہ بے شک آ کراہ اگر قتل کرنے یا کسی عضو کو ہلاک کرنے کی دھمکی سے ہو تو یہ آ کراہ از روئے شریعت معتبر ہے چاہے فعل پر حاصل ہو یا قول پر، اور اگر قید و بند کے ذریعہ حاصل ہو تو اگر کسی کام کے کرنے پر کیا جائے تو از روئے شرع معتبر نہیں ہے، اور گویا مکرہ نے یہ کام بغیر کسی آ کراہ کے کیا ۔
اور اگر کسی قول پر آ کراہ کیا جائے اور وہ قول ایسا ہو کہ اس میں حقیقت اور مذاق دونوں کا حکم یکساں نہیں ہے، جیسے خریدو فروخت، وقف، ہبہ، اجارہ، براء ت اور صدقہ تو از روئے شرع معتبر ہے، اور اگر ایسے قول پر کیا جائے کہ جس میں جد و ہزل کا حکم یکساں ہے، جیسے طلاق و عتاق تو اس میں یہ آ کراہ (یعنی غیر ملجئی) معتبر نہیں ہے ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:

والإكراه بوعيد القتل وإتلاف العضو يظهر في الأقوال والأفعال جميعاً. (فتاوى قاضيخان: ۳/٤۸۳).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.