صبیح الوجہ لڑکے کو بوسہ دینے کا حکم:
Question
کسی خوبصورت لڑکے کو بوسہ دینے کا کیا حکم ہے؟ بہ قصدِ شہوت یا بلا قصدِ شہوت بلکہ از راہِ شفقت حکم میں کوئی فرق ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شہوت اور خوفِ فتنہ کے وقت صبیح الوجہ لڑکے کو بوسہ دینا ناجائز ہے البتہ بلا قصدِ شہوت فقط از راہِ شفقت بوسہ دینا جائز اور درست ہے، تاہم مقامِ تہمت ہونے کی وجہ سے احتیاط ترک کرنے میں ہے ۔ ملاحظہ ہو الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
الأمرد إذا لم يكن صبيح الوجه فحكمه حكم الرجال في جواز تقبيله للوداع والشفقة دون الشهوة، أما إذا كان صبيح الوجه يشتهي فيأخذ حكم النساء وإن اتحد الجنس، فتحرم مصافحته وتقبيله ومعانقته بقصد التلذذ عند عامة الفقهاء. (الموسوعة الفقهية: ۱۳/۱۳۰، وزارة الاوقاف).
ملا علی قاری رحمه الله مرقات میں لکھتے ہیں:
قال النووي رحمه الله: وينبغي أن يحترز عن مصافحة الأمرد الحسن الوجه فإن النظر إليه حرام وقال أصحابنا: كل من حرم النظر إليه حرم مسه بل مسه أشد. (مرقاة المفاتيح: ۹/۷٤، باب المصافحة، ط: إمدادية، ملتان).
وقال أيضاً: وأما التقبيل بالشهوة فحرام بالاتفاق وسواء في ذلك الوالد وغيره. (مرقاة المفاتيح: ۹/۷۵).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جو تقبیل اور معانقہ چھوٹوں پر شفقت یا بزرگوں کی تعظیم و آ کرام کے لیے ہو وہ باتفاق جائز اور سنت سے ثابت ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی امر منکر یعنی ناجائز کام شامل نہ ہو جائے ۔ (جواہر الفقہ، جلد اول، ص ۲۰۱، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی الشامی: ۱/٤۰۷، سعید، و
6/365
، سعید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2780
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2780