صابر نام رکھنے کا حکم:
Question
میرا نام صابر ہے بعض لوگ میرے نام پر معترض ہیں کہ صابر کا مطلب مصیبت کو دعوت دینا ہے حالانکہ شریعت میں مصیبت کی دعا یا اس کو دعوت دینا صحیح نہیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے:
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال:
سمع النبي ﷺ رجلاً وهو يقول: اللهم إني أسألك الصبر، فقال: سألتَ الله البلاء فاسئله العافية. (أخرجه الامام الترمذي، رقم: ۳۵۲۷، وقال: هذا حديث حسن). وأيضا أخرجه الامام أحمد في مسنده، رقم: ۲۲۰۱۷، وقال الشيخ شعيب: إسناده حسن.
مرقات میں لکھا ہے کہ مصیبت سے پہلے صبر کا سوال مذموم ہے اور اس کے بعد مندوب ہے تو ایسا نام رکھنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
۱۔ صابر نام رکھنا جائز ہے، صبر کی کئی اقسام ہیںـ (۱) صبر علی الطاعات۔ (۲) صبر عن المعاصی و المنکرات۔ (۳) صبر عن البدعات۔ (٤) صبر عن الشہوات۔ (۵) صبر عن الشبہات۔ (٦) صبر علی الآفات و البلیات، صبر کی پہلی پانچ قسمیں ہر وقت مطلوب ہیں ہاں چھٹی قسم مصیبت کے بعد مطلوب اور مصیبت سے پہلے محجوب ہے تو صابر میں پہلے پانچ معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ نام رکھا جائے۔
۲۔ نیز صبر کے ایک معنی جرءت بھی ہے اور حضرت تھانوی رحمه الله کے الفاظ میں قوتِ تحمل ہے ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۴۹۷
)۔ تو قوتِ تحمل کی دعا مانگنی چاہیے، یعنی یا اللہ اگر کبھی کوئی خلاف مزاج شیٔ پیش آ جائے تو قوتِ تحمل عطا کر دے۔ ملاحظہ ہو القاموس الوحید میں ہے:
الصابر: جفا کش، با ہمت، صبر کنندہ، متحمل، محنتی۔ (القاموس الوحید:
۱
/
۹۰۸
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2810
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2810