علامہ دمیری کی حیاۃ الحیوان پر تبصرہ:
Question
حیاۃ الحیوان معتبر کتاب ہے یا اس میں رطب و یابس کی بھرتی ہے اور اس کے مصنف کون تھے؟
Answer
مصنف کا اسم گرامی کمال الدین محمد، کنیت: ابو البقا، والد کا نام موسی بن عیسی بن علی ہے۔ امام زرکلی اپنی شہرۂ آفاق کتاب "الاعلام" میں رقم طراز ہیں:
محمد بن موسى بن عيسى بن على الدميري، أبو البقاء، كمال الدين: باحث، أديب، من فقهاء الشافعية، من أهل دميرة (بمصر) ولد ونشأ وتوفي بالقاهرة، كان يتكسب بالخياطة ثم أقبل على العلم وأفتي ودرس، وكانت له في الأزهر حلقة خاصة، وأقام مدة بمكة والمدينة.
من كتبه: "حياة الحيوان"، مجلدان وحاوي الحسان من حياة الحيوان، اختصره بنفسه من كتابه (قاله على الخاقاني: في مجلة المجمع العلمي العراقي:
۸
/
۲۲۷
) و"الديباجة" في شرح كتاب ابن ماجه، في الحديث، خمس مجلدات، و"النجم الوهاج في شرح منهاج النووي"، و"أرجوزة في الفقه" و"مختصر شرح لا مية العجم للصفدي". (الأعلام للزركلي: ۷/۱۱۸).
قال الشوكاني: ومن مصنفاته حياة الحيوان الكتاب المشهور الكثير الفوائد مع كثرة ما فيه من المناكير. (البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع: ۲/۲٦٤، للشوكاني).
وقال حاجي خليفة: وهو كتاب مشهور في هذا الفن جامع بين الغث والسمين، لأن المصنف فقيه فاضل محقق في العلوم الدينية لكنه ليس من أهل هذا الفن كالجاحظ وإنما مقصده تصحيح الألفاظ وتفسير الأسماء المبهمة. (كشف الظنون: ۱/٦۹٦).
وقال السخاوي: وله تذكرة مفيدة، وحياة الحيوان وهو نفيس أجاده وأكثر فوائده مع كثرة أستطراده فيه من شيء إلى شيء، وله فيه زيادات لا توجد في جميع النسخ وأتوهم أن فيها ما هو مدخول لغيره إن لم تكن جميعها لما فيها من المناكير، وقد جردها بعضهم بل اختصر الأصل التقي الفاسي في سنة اثنتين وعشرين ونبه على أشياء مهمة يحتاج الأصل إليها. (الضوء اللامع للسخاوي: ۵/۱٦).
وقال محقق كتاب "حياة الحيوان الكبري" إبراهيم صالح: والمشكلة الكبرى عند الدميري: هي التي نراها في قسم التاريخ، فقد ترجم في مادة "الاوز" لكل الخلفاء الراشدين والأمويين والعباسيين، حتى زمنه؛ وفيه أخطاء كثيرة في تواريخ الوفيات صححتها وأشرت إلى بعضها، ثم أتي بعده آخرون. لا نعلمهم. فأضافوا تراجم الخلفاء العباسيين بالقاهرة، إلى ما بعد وفاة الدميري!!! فوصلوا إلى سنة
۸۳۳
هـ بينما وفاة الدميري سنة ـ
۸۰۸
هـ، وهو الذي يقول في خاتمة كتابه: فكان الفراغ من مسودته، في شهر رجب الفرد سنة
۷۷۳
هـ؟ (مقدمة حياة الحيوان الكبري: ۱/٤۲، ط: دار البشائر، دمشق).
ماہنامہ دار العلوم میں علامہ دمیری اور ان کی کتاب حیاۃ الحیوان سے متعلق مفصل تذکرہ شائع ہوا ہے اس کے کچھ ملخصات حسبِ ذیل ہیں: "اس کتاب نے تمام تصانیف میں عام شہرت حاصل کی ہے اس میں بترتیب حروفِ تہجی حسبِ معلومات اکثر جانوروں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، کتاب کی خصوصیات یہ ہیں: جانور سے متعلق معلومات اس طرح جمع کی ہیں کہ پہلے لغوی حل، جانوروں کے نام اور کنیتیں، خصوصیات و عادات، احادیث میں ان کا تذکرہ، شرعی حلت و حرمت، ضرب الامثال، طبی فوائد، خواب میں تعبیر، ذیل میں تاریخی واقعات، اشعار اور منظوم کلام، گاہے گاہے اوراد و وظائف تعویذ و عملیات و دیگر فوائد حسنہ زیب قرطاس ہیں۔
اس کتاب کے مطالعہ سے مصنف کی تبحر علمی، وسعتِ معلومات خاص طور پر علمِ حیوان سے دل چسپی کا ثبوت ملتا ہے کتاب کی ترتیب وتبییض سے فراغت رجب ۷۷۳ ھ میں ہوئی۔
مؤرخ ابو الفلاح عبد الحی بن العماد الحنبلی (متوفی ۱۰۸۹ ھ) لکھتے ہیں: مصنف کی یہ کتاب تین ہیں: ۱۔ کبری، ۲۔ وسطی، ۳۔ صغری، حیاۃ الحیوان الکبری میں ہر فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وسطی میں خارجی باتوں کو ترک کر دیا گیا ہے اور صغری میں صرف جانوروں سے متعلق مفید معلومات کی تحقیق کی گئی ہے۔ (شذرات الذہب:
۷
/
۷۹
)
ملا کا تب چلپی نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی حیاۃ الحیوان الکبری کا مطالعہ کرے گا مصنف کی تبحر علمی کا قائل ہو جائے گا۔ حافظ سخاوی کہتے ہیں کہ یہ کتاب باوجود حشو زوائد کے مفید اور نفیس کتاب ہے۔ عبد الحی فرنگی محلی کہتے ہیں کہ یہ عجائب و غرائب اور معلومات کا بیش بہا مجموعہ ہے۔ (الفوائد البہیۃ، ص
۸۵
)
ملا کا تب حیاۃ الحیوان الکبری کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں: یہ کتاب عجائب و غرائب اور خواص اشیاء میں مشہور و معروف ہے اسی کے ساتھ رطب و یابس کا مجموعہ بھی، اس لیے کہ امام دمیری فقیہ اور فاضل آدمی تھے، دینی علوم کے ماہر تھے لیکن اس میدان (علم الحیوان) کے آدمی نہیں تھے جس طرح کہ اس سے قبل امام جاحظ نے ایک کتاب "الحیوان" لکھی ہے وہ بھی فصاحت و بلاغت کے شہسوار، معانی و بیان کے علم بردار اور علمائے یکتائے روز گار میں تھے لیکن اس فن کے عالم نہیں تھے کتاب الحیوان ان کے مزاج و موضوع سے بالکل الگ چیز تھی۔
چلپی کہتے ہیں کہ کمال الدین دمیری نے کتاب حیاۃ الحیوان اس مقصد سے لکھی ہے تاکہ مغلق الفاظ کی شرح، پیچیدہ لفظوں کی تصحیح ہو جائے اس لیے کہ بعض عبارتیں دشوار ہوتی ہیں کہ لغات و معاجم بھی ان کا حل نہیں کر سکتے چنانچہ دمیری خود لکھتے ہیں کہ میں نے اس کتاب میں مغلق الفاظ کی دل نشین شرح اور تفصیل کر دی ہے تاکہ کتاب کے مطالعہ کے بعد پیچیدہ عبارتیں حل ہو جائیں۔ (از ماہنامہ "دار العلوم دیوبند" فروری
۱۹۸۱
ء)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3185
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3185