میڈیا کی ایڈوٹائزنگ کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #387Urdu

Question

کیا میڈیا (ریڈیو اور ٹی وی) کے مراکز کے لیے اڈوٹائزنگ ایجنٹ بننا جائز ہے یا نہیں؟ اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ اشتہارات کے ذریعہ گاہک لانے پر ۲۰ فیصد فائدہ ہوگا، یہ بات بھی یاد رہے کہ تمام کمپنیاں شریعت کے مطابق حلال کاروبار کرتی ہیں، کیا ایسے ایجنٹ کی آمدنی حلال ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ کمپنی کی مصنوعات کی تشہیر اور اس کے اشتہارات جو شریعت کے دائرہ میں رہ کر ہوں جائز ہیں یعنی اشتہارات میں جاندار کی تصویر یا موسیقی یا لہو و لعب وغیرہ شامل نہ ہو تو ایسی ایجنسی کی اجازت ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:

قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل. (فتاوى الشامي: ٦/٤۷، سعيد).
وفيه أيضاً: تتمة: قال في التاتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه إن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن مسلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجوا أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (فتاوى الشامي: ٦/٦۳، سعيد).

قاموس الفقہ میں مرقوم ہے:
آج کل مختلف تجارتوں میں کمیشن کا طریقہ مروج ہو گیا ہے، یعنی کمپنی اپنا مال فروخت کرنے والوں کو بجائے تنخواہ متعین کرنے کے فیصد متعین کر دیتی ہے، مثلاً: جتنی فروخت ہو گی اس کا دس فیصد اسے بہ طورِ اجرت دیا جائے گا بہت سے دینی اور عصری اداروں میں جو لوگوں کے تعاون پر چلا کرتے ہیں، اب یہ طریقہ مروج ہوتا جا رہا ہے کہ اُنھیں متعینہ تنخواہ دینے کے بجائے کچھ فیصد اجرت دے دی جائے، اس میں مدرسہ والے اپنے لیے یہ عافیت سمجھتے ہیں کہ اگر تنخواہ مقرر کی جائے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ محنت میں کمی کرے احناف میں مشائخ بلخ نے عرف کی رعایت کرتے ہوے اس کی اجازت دی ہے ۔ (قاموس الفقہ: ۱/٤۹۹) ۔
دوسری جگہ مذکور ہے: جس طرح خود کسی ناجائز اور خلاف شرع کام کرنا درست نہیں اسی طرح ایسے کاموں میں ملازمت اور تعاون بھی درست نہیں اس لیے بینک، انشورنس، شراب خانوں، قحبہ خانوں کی ایسی ملازمت جائز نہیں ہو گی جس میں آدمی سود، قمار، شراب یا قحبہ کے کاروبار کا ذریعہ بنے، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے، سود کے حساب و کتاب لکھے، ہاں چپراسی وغیرہ کی ملازمت کی جا سکتی ہے، کیوں کہ اس کا براہِ راست اس کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ۔ (قاموس الفقہ: ۱/۵۰۰) ۔
اسلامی فقہ میں ہے:
جن چیزوں سے کسی جرم یا گناہ کی ترغیب ہوتی ہو ان کا بیچنا اور خریدنا سب حرام ہے، مثلاً کسی سامان سے یا سامان پر بنی ہوئی تصویر سے یا اشتہار سے، زنا کی، سود لینے کی، شراب پینے کی، چوری یا ڈاکے یا کسی اور جرم کی ترغیب ہوتی ہو، ان کی خرید و فروخت اور اشاعت دونوں حرام ہے، سینما کا موجودہ کاروبار، غیر تمدنی، فلم سازی، عریاں تصویریں، فحش گانے اور فحش ناولیں یہ سب حرام ہیں ۔ (اسلامی فقہ: ۲/۳۸۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.